ایران، امارات تعلقات کا نیا باب شروع کرنے کے لیے پرعزم، مستقبل کی تعمیر کریں گے، صدر پزشکیان،

خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان عمان میں آج ہونے والی ملاقات ملتوی ہوگئی ہے ‘ یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہےجبکہ حوثی اہم شمالی شہر مارب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیںجبکہ حوثی ترجمان کا کہنا ہے کہ گروپ نے سعودی ریجن جیزان میں فوجی اڈے کوہدف بناکر اسلحہ ڈپواور کمانڈ سینٹرزکو نشانہ بنایا گیا ہے ‘ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے ‘جنگ نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی‘ ہرمزپر ایران اور خلیجی ممالک کے مذاکرات کی پرواہ نہیں ‘یہ ان کا معاملہ ہے‘دوسری جانب صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ تہران تو امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع پر مجبور ہوا ہے‘ ریاض کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ‘ابوظہبی کے ولی عہد کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی‘اس بات پر اتفاق ہوا کہ ہم ماضی کو پیچھے چھوڑ کر ایک نیا باب شروع کریں گے‘ مستقبل پر توجہ دیں گے اور اسے مل کر تعمیر کریں گے۔ امارات‘ سعودیہ ‘پاکستان‘ قطر‘ روس اور چین سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات دوستانہ ہیں ‘خطے میں امریکی فوجی اڈے بنیادی مسئلہ ہیں‘ دشمن موجودہ سپریم لیڈرکے ساتھ بھی وہی کرنا چاہتا ہے جو سابق رہبراعلیٰ کے ساتھ کیا گیاجبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے مطابق ہرمز کا دوبارہ کھلنا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے مشروط ہے‘ ادھر ہرمز میں ایرانی تجارتی جہاز کو نامعلوم سمت سے نشانہ بنایا گیا جس سے اس پر سوار عملے کا ایک رکن جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے۔ یمنی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کے پانچ ڈرون مار گرائے ہیں۔سعودی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک گولہ جازان میں گرنے کے بعد دو افراد زخمی ہوئے۔ پاسداران انقلاب نے صدرٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر امریکی صدرآبنائے ہرمز کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو 100 کلومیٹر اندر آ کر دکھائیں جبکہ ایران کے قائم مقام وزیردفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ تہران کسی بھی نئے خطرے یا جنگ کے ایک اور مرحلے کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں، یہ امریکا ہے جو ہمارے خطے میں داخل ہوا ہے، ہمارے رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔

ایک انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ ہم نے نہیں امریکا اسرائیل نے شروع کی، ہم اس جنگ میں اپنا دفاع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں، ہمیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) یا خطے کے کسی اور ملک سے کوئی مسئلہ نہیں، خطے کے ممالک ہمارے بھائی ہیں۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہمیں خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے مسئلہ ہے، جہاں سے ایران پر حملے ہوتے ہیں، یہ امریکا ہے جو ہمارے خطے میں داخل ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے دوست پڑوسی ممالک کو اپنی سرزمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ہم خطے کے تمام ممالک سے خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں لیکن امریکا ایسا ہونے نہیں دینا چاہتا۔

مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ امریکا خطے کے پیٹرولیم ذخائر کو اپنے استعمال میں لانا چاہتا ہے، امریکا اپنے ہتھیار میزائل فروخت کرکے خطے کا امن و استحکام تباہ کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی سیکیورٹی کے لیے خطے کے ممالک کو خودمل کر کام کرنا چاہیے، امریکا دنیا کو بتاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا کر دنیا تباہ کرنا چاہتا ہے، دنیا دیکھ لے کہ غزہ اور لبنان میں روز قتل عام کون کر رہا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان دوست ہمسایہ ملک ہے، جس نے امن کے لیے بہت مدد کی، قطر نے بھی مدد کی۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد بھی ہم سے دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت میں ہم نے امریکی پابندیاں ختم ہونے کا لکھا تھا، جو انہیں ختم کرنا ہوں گی۔ جنگ ہم نے شروع نہیں کی تھی، جارحیت امریکا کو ہی ختم کرنا ہوگی۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہاں جوہری معاملات کے لیے ہمیں بیٹھ کر بات کرنی تھی، اس کے لیے ہم تیار ہیں، امریکا سے براہ راست مذاکرات کے بارے میں ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایرانی عوام کے دلوں میں بسنے والے رہنما کا قتل کیا ہے جو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا، واشنگٹن پہلے دن سے ہماری حکومت گرانا چاہتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری سعودی عرب سے جنگ نہیں، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں، جب یورپی ممالک ایک ساتھ مل کر اپنی سیکیورٹی، تجارت کےلیے قوانین بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے رہبر اعلیٰ زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دشمن ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا اسی لیے مختلف قیاس آرائیاں کر رہا ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن ہمارے نئے رہبر اعلیٰ کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے، امریکا دنیا کو بتاتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا کر دنیا تباہ کرنا چاہتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *