وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے منظوری دی تو ریفرنڈم ہوگا، پیپلزپارٹی نے صوبوں پر اپنی پالیسی واضح کردی، ن لیگ نے فیصلہ نہیں کیا، ایک جماعت کے صاحب فرما رہے تھے ہم اسلام آباد نظام گرانے جارہے ہیں ، رپورٹ ہے انکی جماعت میں لوگ مسلح ہونگے، نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث سیمینارز یا اقتصادی فورمز کے بجائے پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی قیادت کی نمائندگی ہوگی،مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ میں اس معاملے پر اپنی پالیسی واضح کریگی جبکہ پارلیمنٹ کا فیصلہ تمام جماعتوں کو قبول کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر حتمی بحث اور فیصلہ پارلیمنٹ ہی میں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اس معاملے کو سندھ اسمبلی میں اٹھانا ایک سیاسی اقدام تھا جس سے اسے سیاسی فائدہ بھی حاصل ہوا۔ تاہم صوبہ بننا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کریگی۔ریفرنڈم کی تیاری سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں پر حکومت ریفرنڈم کا فیصلہ خود سے نہیں کر سکتی۔وفاقی کابینہ میں اب تک اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت چلانے سے متعلق مفاہمت موجود ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کو کوئٹہ میں بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، انتظامی بنیاد پر صوبے بننے چاہئیں، صوبے لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں،ہم نئے صوبے بنانے کیلئے تیار ہیں تاہم پہلے قومی اسمبلی میں صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے ہونا چاہیے، بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت متفق اور یکسو ہے، اس معاملے پر کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں۔ وزیراعلیٰ نے قومی میڈیا کے اینکرز، سینئر صحافیوں اور دیگر نمائندوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے صوبے کی مجموعی صورتحال، ترقیاتی عمل، معدنیات و کان کنی، امن و امان، سیاسی معاملات اور حکومتی اقدامات سے متعلق سوالات کے جواب دیئے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہی ہیں، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں علم نہیں۔














Post your comments