راولاکوٹ میں مسلح افراد مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہیں: ایس ایس پی خاور علی شوکت

ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں مسلح افراد شہر کی مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہیں جو فورسز پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔

راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی خاور علی شوکت نے کہا کہ شرپسندوں کے حملوں میں 1 رینجرز اہلکار شہید ہوا ہے جبکہ گرفتار ملزمان سے جدید اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

ایس ایس پی خاور علی نے کہا کہ شرپسندوں کے تانے بانے کسی اور جگہ سے ملتے ہیں، انہیں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور اداروں پر حملہ کسی صورت قبول نہیں، ملک دشمن عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

ایس ایس پی خاور علی نے کہا کہ شرپسند عناصر آزاد کشمیر کے امن کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلح جتھوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے امن کو کسی صورت تباہ نہیں ہونے دیں گے، پولیس نے متعدد شرپسند عناصر کو گرفتار کیا ہے۔

آزاد کشمیر کے علاقے راولا کوٹ اور میر پور میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے موقع پر جھڑپوں میں ایک رینجرز اہلکار شہید ہوگیا ہے ،

ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے رینجرز اہلکار کی شہادت اور پانچ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ کالعد م ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ سے ان کے 14کارکن مارے گئے ہیں، آزادکشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک نے کالعدمایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک درجن سے زیادہ ہلاکتوں کے بارے میں دعوے پر کہا کہ ان دعووں کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ نہ کوئی لاش کسی سرکاری یا نجی ہسپتال لائی گئی ہے اور نہ ہی پولیس کے پاس کوئی لاش موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہمظاہرین کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے جس سے وہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابقسیکرٹری اطلاعات آزادکشمیر محمد راشد حنیف نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں شرپسند موجود ہیں، قانون کے مطابق فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ترجمان آزادکشمیر پولیس نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں ایم 8 گن کے ساتھ ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا،ملزم بیرون ملک سے آیا، اسنائپر کے طور پر تربیت یافتہ ہے،شرپسندوں کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار شہید ہوا۔ فائرنگ سے ایک پولیس افسر سمیت 5پولیس اہلکار زخمی ہوئے، ترجمان اے جے کے پولیس نے کہا کہ کوئی طاقت کے زور پر راولاکوٹ یا کسی اور علاقے پر قبضہ نہیں کرسکتا، سیکورٹی ادارے ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم رکھیں گے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیر کو رات گئے جاری کیے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی مظاہرین پر فائرنگ سے 14 کارکن مارے گئے ہیں تاہم کشمیر پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے تصادم میں دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔آزاد کشمیر پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی جس سے پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن امتیاز اسلم نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ پیر کو فائرنگ سے ان کے 14 ساتھی مارے گئے جن میں کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر بھی شامل ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے کارکن اب راولاکوٹ شہر میں موجود ہیں اور وہاں سے مظاہرین مظفر آباد کی طرف بڑھیں گے اور پیدل مارچ کرتے ہوئے چار روز میں وہاں پہنچ جائیں گے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *