امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہو گا، جہاں دونوں ممالک کے نمائندے 23 اور 25 جون کو ملاقاتیں کریں گے۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کے روز جوزف اون سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
اس دوران روبیو نے زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات ہی لبنان کی تعمیرِ نو، معاشی بحالی اور تشدد کے بار بار ہونے والے سلسلے کے خاتمے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مذاکرات کے دوران دونوں خود مختار حکومتیں ’دیرپا امن‘ کے قیام کی جانب پیش رفت کرنے کی کوشش کریں گی۔
اسرائیل اور لبنان نے اپریل 2026ء میں براہِ راست مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جو 1993ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھی۔
بعد ازاں جون میں بھی مذاکرات کا ایک اور دور ہوا، جس کے نتیجے میں فریقین نے لڑائی میں عارضی وقفوں کا اعلان کیا تھا۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات میں حزب اللّٰہ کی عدم شمولیت ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ تنظیم جنوبی لبنان میں ایک اہم عسکری اور سیاسی قوت سمجھی جاتی ہے۔
نومبر 2024ء کی جنگ بندی کے بعد لبنان کی حکومت امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب لبنان اسرائیلی افواج کے جنوبی لبنان سے مکمل انخلاء کا مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن لبنان میں جاری جھڑپیں اس عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔














Post your comments