نصابِ منافقت تحریر: نجیم شاہ

ہم ایک عجیب قوم ہیں۔ یہاں تعلیم کا مقصد ذہن روشن کرنا نہیں بلکہ ذہن قابو میں رکھنا ہے۔ کتابیں کھولنے سے پہلے دماغ بند کر دینے کی روایت اِتنی پرانی ہو چکی ہے کہ اب کسی کو اس پر حیرت بھی نہیں ہوتی۔ سوال کرنے والا مشکوک، سوچنے والا خطرناک اور اختلاف کرنے والا باغی سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے علم کو چراغ بنانے کے بجائے لاٹھی بنا لیا ہے، ایسی لاٹھی جس سے نسل در نسل ذہنوں کو ہانکا جا رہا ہے۔ یہی ہمارا اصل نصاب ہے، نصابِ منافقت، جس میں سچ کم اور سہولت زیادہ پڑھائی جاتی ہے۔

ہمارے نصاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ حقیقت سے زیادہ خوش فہمی پیدا کرتا ہے۔ بچے تاریخ نہیں پڑھتے، تاریخ کا سرکاری ورژن رٹتے ہیں۔ اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم ہمیشہ درست تھے، باقی سب غلط تھے۔ نتیجہ یہ کہ وہ دُنیا کو سمجھنے کے بجائے نعروں میں جینا سیکھتے ہیں۔ جب قومیں آئینے کی جگہ تعریفوں کے پوسٹر دیکھنے لگیں تو اُن کی فکری بینائی جواب دے جاتی ہے۔ ہم بھی برسوں سے اِسی اندھے پن کو بصیرت سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔

ہم نے کردار سازی کے دعوے تو بہت کیے، مگر کردار کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ امتحان میں نقل کرنیوالا ’’ذہین‘‘، سفارش سے آگے بڑھنے والا ’’کامیاب‘‘ اور اُصول پر قائم رہنے والا ’’بیوقوف‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ بچے کتابوں میں دیانت داری پڑھتے ہیں اور عملی زندگی میں اس کی سزا دیکھتے ہیں۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرے میں بدعنوانی کیوں بڑھ رہی ہے۔ جو قوم اپنے نوجوانوں کو دو متضاد سبق دے، وہ آخر سچائی کی توقع کس بنیاد پر کرتی ہے؟

المیہ یہ ہے کہ منافقت اب صرف نصاب کا حصہ نہیں رہی، یہ قومی مزاج بن چکی ہے۔ زبان پر اِنصاف ہوتا ہے اور عمل میں مفاد۔ تقریروں میں اخلاقیات ہوتی ہیں اور فیصلوں میں موقع پرستی۔ ہم اُصولوں کی بات تب تک کرتے ہیں جب تک وہ ہمارے فائدے کیخلاف نہ ہوں۔ جیسے ہی ذاتی مفاد سامنے آتا ہے، سارا فلسفہ ہَوا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ دوغلا پن ہے جس نے ہماری اجتماعی ساکھ کو اندر سے چاٹ لیا ہے۔

ہم اپنے بچوں کو سچ بولنے کا درس دیتے ہیں مگر اُنہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ بعض جھوٹ ضروری ہوتے ہیں۔ ہم دیانت کی تعریف کرتے ہیں مگر کامیابی کی مثال ایسے لوگوں کی دیتے ہیں جنہوں نے ہر اُصول کو روند کر مقام حاصل کیا۔ پھر نوجوان اُلجھن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اصل سبق کون سا ہے: کتاب والا یا زندگی والا؟ افسوس یہ ہے کہ اکثر وہی سبق جیت جاتا ہے جو فائدہ پہنچاتا ہے، چاہے وہ اخلاقی طور پر کتنا ہی کھوکھلا کیوں نہ ہو۔

یہ نصاب ایسے افراد پیدا کرتا ہے جو معلومات تو رکھتے ہیں مگر بصیرت نہیں۔ ان کے پاس ڈگریاں ہوتی ہیں مگر فہم نہیں۔ وہ بول سکتے ہیں، دلیل نہیں دے سکتے؛ یاد رکھ سکتے ہیں، سمجھ نہیں سکتے۔ ان کی ذہنی تربیت اس انداز سے کی جاتی ہے کہ وہ ہر بات مان لیں مگر کسی بات کو پرکھنے کی زحمت نہ کریں۔ یوں معاشرہ آہستہ آہستہ ایسے افراد سے بھر جاتا ہے جو تعداد میں بہت اور معیار میں کم ہوتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں باہر کے دشمنوں سے کم اور اندر کی فکری بددیانتی سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔ جب معاشرے میں سچ غیر مقبول اور جھوٹ قابلِ قبول ہو جائے تو زوال صرف وقت کا سوال رہ جاتا ہے۔ عمارتیں، سڑکیں اور منصوبے قوموں کو عظیم نہیں بناتے؛ سچائی، دیانت اور آزاد سوچ انہیں مضبوط بناتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے بنیادوں کے بجائے رنگ و روغن پر زیادہ توجہ دی ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم نصاب سے پہلے اپنے رویّوں کا جائزہ لیں۔ مسئلہ صرف کتابوں کا نہیں، ذہنوں کا ہے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو بچوں کو جواب یاد کرانے کے بجائے سوال کرنا سکھانا ہوگا۔ انہیں اطاعت نہیں، شعور دینا ہوگا۔ ورنہ تاریخ اپنا فیصلہ سُنانے میں کبھی دیر نہیں کرتی۔ اور اس کے فیصلے میں اکثر ایک ہی جملہ لکھا ہوتا ہے: یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سچ سے منہ موڑا اور پھر حیران ہوئے کہ اندھیرا اِتنا گہرا کیوں ہو گیا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *