امریکا نے ایران کی سمندری ناکہ بندی ختم کر دی

ایران امریکا امن ڈیل پر دسختط سے پہلے ہی جمعے کو امریکا نے ایران کی سمندری ناکہ بندی ختم کر دی۔

ایرانی خام تیل لے جانے والا تیسرا ٹینکر امریکی بحری ناکہ بندی کے دائرے سے نکل گیا۔

 تیل بردار جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ٹینکرز ٹریکرز نے امریکی سمندری ناکہ بندی ختم ہونے کی تصدیق کر دی۔

ویب سائٹ کے مطابق نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی  کے کم از کم 2 وی ایل سی سی (بہت بڑے خام تیل بردار) سپر ٹینکرز، ڈیونا اور ہیرو 2، امریکی بحری ناکہ بندی کے دائرے سے باہر نکل گئے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ان دونوں جہازوں میں مجموعی طور پر تقریباً 38 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل موجود ہے۔

ویب سائٹ نے بتایا ہے کہ نیشنل ایرانی ٹینکر کمپنی کا ایک تیسرا ٹینکر بھی ناکہ بندی کی لائن عبور کر چکا ہے، جس میں 10 لاکھ بیرل خام ایرانی تیل موجود ہے۔

ایران امریکا ڈیل سے متعلق اپنی رپورٹ میں برطانوی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران تیل اور ایندھن کی فروخت فوری بحال کر سکے گا، پابندیوں میں رعایت بینکاری، ٹرانسپورٹ اور انشورنس خدمات پر بھی لاگو ہو گی۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سہولت ایران کی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہو گی، امریکا اور ایران معاہدے میں 300 ارب ڈالرز کا نجی سرمایہ کاری فنڈ شامل ہو گا، 150 ارب ڈالرز سے زائد سرمایہ کاری کی یقین دہانی پہلے ہی ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ 2 ماہ سے امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہ کی طرف آنے جانے والے جہازوں کو روک رہی تھی۔

امریکا نے خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کے قریب خفیہ جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقلی کا ایک وسیع نظام قائم کر رکھا ہے، اس کارروائی میں فوجی نگرانی، ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد لی جا رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرہ اور عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب مخصوص مقامات پر تیل ایک جہاز سے دوسرے بڑے آئل ٹینکر میں منتقل کیا جا رہا ہے، 11 جون کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں جہازوں کے 17 جوڑے بیک وقت یہ عمل کرتے دکھائی دیے۔

رپورٹ کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک کم از کم 92 جہاز اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں، اندازہ ہے کہ 90 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کی جا چکی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ طریقۂ کار وہی ہے جو ایران برسوں سے پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے تاہم امریکا اسے خلیجی تیل کی سپلائی بحال رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جہازوں کے ٹرانسپونڈر بند رکھنے اور رات کے وقت محدود روشنی میں سفر کرنے سے تصادم اور سیکیورٹی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

امریکی حکام نے جہازوں کے درمیان براہِ راست تیل منتقلی میں فوجی شمولیت کی تردید کی ہے تاہم رائٹرز کا اپنی رپورٹ میں ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پورے نظام کی نگرانی امریکی فوج کر رہی ہے۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انتظام وقتی نوعیت کا ہے اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی کو درپیش خطرات بدستور برقرار ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *