لکھنو میں ایک محرم۔ تحریر ظفر محمد خان

برصغیر میں اردو زبان کے دو دبستان ہیں ایک دبستان دہلی اور دوسرا دبستان لکھنو ، دونوں شہروں نے اردو ادب کی ترقی وترویج میں بے حد حصہ لیا ہے اور اردو زبان کے قدیم افکار ان ہی دونوں شہروں سے نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے ہیں۔ لکھنو کے دبستان اردو میں میر ہبر علی انیس  اور مرزا سودا جیسے عظیم مرثیہ نگار اور  میر تقی میر جیسے غزل کے بادشاہ کا جسمانی اور  روحانی تعلق لکھنوی دبستان سے  تھا۔ ا لکھنو اردو زبان کے علاوہ مسلمانوں کی تہذیب وتمدن کے عظیم معیار کا ترجمان بھی رہا ہے۔ آج بھی پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والے لاکھوں مہاجرین لکھنو کی اپنی ثقافت کو زندہ رکھے پاکستان کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے لکھنو کی زبان اور وہاں کی رواداری کو دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ آج بھی پاکستان میں لکھنو سے تعلق رکھنے والے افراد ا چھی اور تھذیبی  اردو بولتے ہیں ۔ جہاں اردو ادب کے حوالے سے لکھنو یاد آتا ہے وہاں ہندوستان اور پاکستان میں  بنائی گئی مسلم کلچر فلموں  میں بھی لکھنو کی تہذیب کا بے مثال نقشہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی بنی ہوئی فلم امراؤ جان ادا اور ہندوستان کی فلم پاکیزہ اس سلسلے میں ایک نصاب کی حیثیت رکھتی ہیں۔

 اس مرتبہ سفر ہند (٢٠١١)  کے دوران لکھنو کا دورہ میری بہت پرانی خواہش کی تکمیل تھا۔ ہندوستان میں یوپی  سب سے بڑا صوبہ ہے اور وہاں کا دار الحکومت ہونے کی وجہ سے لکھنو کی سارے ہندوستان میں بے حد اہمیت ہے لکھنو کے صوبائی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہ شہر خصوصی طرز پر سیاسی اکھاڑے کا مرکز بھی ہے۔

اس وقت وہاں مایاوتی کی حکومت تھی ( ٢٠١١)  جو بہوجن سماج وادی پارٹی کی وزیراعلیٰ ہیں ۔ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد یوپی میں رہتی ہے اور وہ ہمیشہ ملائم سنگھ یادیو کی پارٹی کو سپورٹ کیا کرتی تھی لیکن گزشتہ کئی سالوں سے جب سے ملائم سنگھ یادیو نے بابری مسجد کی شہادت کے مرکزی تعلق جنتا پارٹی سے ہے ہاتھ ملایا ہے مسلمانوں نے ان سے منہ موڑ لیا ہے اور مایاوتی کے حق میں ووٹ دے کر ان کو ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت عطا کر دی ہے۔ یوپی میں مسلمان بہت بڑی اقلیت میں اور پورے تمتراق  سے جی رہے ہیں۔ پورا یوپی مسلمانوں کے اسلاف کی یادگاروں سے بھر اپڑا ہے اور آج بھی ہزاروں مساجد سے اذان حق بلند ہوتی ہے ۔ لکھنو شیعہ مسلمانوں کا گڑھ ہے۔  لکھنو میں شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی اکثریت ہے اور شیعہ مدرسوں، امام بارگا ہوں اور  شیعہ میڈیکل  کالج کی وجہ سے یہ شہر بر صغیر کے شیعہ مسلمانوں کی نگاہوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں کے مدرسوں سے فارغ ہونے والے شیعہ علماء پاکستان میں بھی انتہائی قدر کی نگاہ ہ سے دیکھے جاتے ہیں مجھے بے حد مسرت تھی کہ میں لکھنو کا مشاہدہ ان دنوں میں کر رہا تھا جب وہاں مجالس محرم بر پاتھیں لکھنو میں  اب وہ روایتی کلچر  یا تہذیب تو قائم نہیں رہی ہے بلکہ شاید  وہ پاکستان ایکسپورٹ ہوکر وہاں بقا کی جنگ لڑ رہی ہو لیکن مسلمانوں کے زمانے کی یادگاریں آج بھی موجود ہیں جن میں بڑا امام باڑہ اور چھوٹا امام باڑہ بے حد اہم ہیں۔ صدیوں قبل یہاں کے نوابین نے جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں یہ عمارات بنوائیں۔
جو بے حد پر شکوہ اور شاندار ہیں ۔ امام باڑوں کے ساتھ مساجد متصل ہیں اور وہاں پرانے قدیم زمانے کے تعزیے، علم اور ضریح موجود ہیں ۔ بڑے امام باڑے کے ساتھ ہی بلکہ اس کی عمارت کا ہی ایک حصہ بھول بھلیوں پر مشتمل ہے جو کہ واقعی خطرناک ہیں اور ایک مرتبہ اگر آپ اس میں داخل ہو جائیں تو واپسی کا راستہ پانا بے حد مشکل ہے۔
امام باڑے کے سامنے ایک وسیع تصویری گیلری موجود ہے جس میں لکھنو کے تاریخ کے ساتھ سفر کو تصاویر کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ محرم کی اصل مجالس اور جلوس کی قد آدم تصاویر انتہائی دلکش ہیں۔ مسلمانوں کے محلے بلکہ علاقے “نقاش” سے محرم کے اہم جلوس نکلتے ہیں  ۔ نقاش مسلمان آبادی کا علاقہ ہے جہاں ہزاروں اہلسنت مسلک کے مسلمان بھی رہائش پذیر ہیں۔ بد قسمتی سے یہاں بھی دونوں فرقوں میں اکثر گرما گرمی ہوتی رہتی ہے اس لئے محرم کے موقع پر یہاں سیکیورٹی کے سخت مناظر دیکھنے میں آئے تاہم ہر شخص شیعہ سنی مسلمانوں میں اتحاد کی اہمیت کی باتیں کرتا نظر آیا۔ میں نے کسی مجلس میں کسی ذاکر کو مذہبی منافرت سے بھری تقریر کرتے نہیں پایا نہ ہی۔ کسی  ذاکر سے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس میں کوئی اشتعال انگیزی ہو۔ لکھنو کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چلنا چاہئے کیونکہ ان کے اتحاد سے ہی مسلمانوں کی آواز ہندوستان میں سر بلند رہے گی ۔
محرم کی مرکزی مجالس شیعہ کالج میں ہوتی ہیں جہاں سے 8 محرم کی شب ایک بڑا جلوس برآمد ہوا تاہم مجالس لکھنو کے دیگر امام بارگاہوں میں بھی جاری تھیں ۔ 9 محرم کو مرکزی مجلس شیعہ کالج میں رات 9 بجے ہوئی جس کے بعد ایک بہت ہوا جلوس برآمد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عزادار بچے بوڑھے، جوان اور خواتین شریک تھیں ۔
زنجیروں اور قمع کے خون میں نہائے ہوئے لوگ لکھنو کے اس سب سے بڑے جلوس عاشور کی قیادت کر رہے ہیں ۔ ماتم کی شرعی حیثیت سے قطع نظر اور کسی بحث میں پڑے بغیر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسا اثر انگیز مظاہرہ تھا جو غیر اسلامی قوتوں کے لیے یقینا دباؤ کا باعث ہوتا ہو گا۔
شب عاشور خون میں ڈوبے ہوئے ماتم کے بعد روز عاشور دوپہر میں محرم کا مرکزی جلوس اسی مقام سے برآمد ہو کر تال کٹورہ کے قبرستان میں جسے کربلا بھی کہتے ہیں اختتام پذیر ہوتا ہے جہاں لوگ اپنے علم اور تعزیئے دکھ اور الم کے ساتھ دفن کرتے ہیں۔ وه
اس عظیم شہر میں شب عاشور اور روز عاشور گزار کر مجھے ایک طمانت اور سکون محسوس ہوا گو کہ میں سنی ہوں لیکن امام عالی مقام اور ان کی اولادوں سے عقیدت اور محبت میرے خون میں شامل ہے جو بھی ذکر حسین کو بلند کرے میں اس کے ساتھ ہوں یقیناً اج جب کہ میں اپنے 15 سال پرانے کا عالم کو دوبارہ کچھ طرح میم کے ساتھ یہاں پیش کر رہا ہوں میرے دل میں یہ خواہش ہے کہ دوبارہ لکھنؤ کے محرم وہیں پر دیکھنے کے موقع ملے ۔ پی سی مرتبہ جو تشنگی رہ گئی تھی وہ دور ہو ۔ ساتھ ہی یہ بھی تمنا ہے کہ ملک عزیز پاکستان میں بھی محرم الحرام کا مہینہ عقیدت احترام اور نواسہ رسول کی قربانیوں کے ذکر کا مہینہ ہو اپس میں تفریق اور ایک دوسرے پہ الزامات کا مہینہ نہ ہو
پاکستان ہندوستان اور دنیا بھر کے جتنے بھی اردو زبان یا پنجابی زبان میں تقاریر کرنے والے ذاکرین کرام ہیں ان سب سے میری گزارش ہے کہ محرم کے موقع پر امام حسین ان کے والد حضرت علی اور ان کے نانا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل بیان کریں نہ کہ فلسفہ شہادت کو فلسفہ سیاست میں بدلنے کی بات کی جائے

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *