امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی کے بعد حملےر وکنے، معاہدہ کرنے کا اعلان کردیا۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اس ہفتے دستخط متوقع ہیں، معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہے، دستخط کی تقریب یورپ میں ہونے کا امکان ہے، جے ڈی وینس شرکت کریں گے۔
ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن معاہدے میں پاکستان بہترین کردار ادا کررہا ہے، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیت ہیں، معاہدے پر سب خوش ہیں، پورا مشرق وسطیٰ بھی اس پر خوش ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی ڈیل کو حتمی شکل دینے تک پوری قوت سے جاری رہے گی، ایران کے ساتھ بات چیت کو ایرانی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح تک لایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور حتمی نکات تمام فریقوں کی طرف سے منظور کیے گئے ہیں، ان فریقین میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان، قطر، ترکیے اور دیگر شامل ہیں۔
علاوہ ازیں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران سے مشاورت میں پیشرفت پر بات چیت ہوئی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے ایران معاہدے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر اطمینان کا اظہار کر دیا۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاہدے میں فریق نہیں پھر بھی ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف میں افزودہ یورینیئم کے ذخائر کا خاتمہ شامل ہے، میزائل کی پیداوار محدود کرنا اور علاقائی پراکسیز کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنا بھی معاہدے کا حصہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت سے متعلق گفتگو کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی کے بعد ایران پر حملے روکنے اور معاہدہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں دو ایرانی ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی عہدیدار نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ بظاہر ایران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
اس سے پہلے ایرانی فوج نے کہا تھا کہ اس نے بندر عباس کے قریب خلاف ورزی کرنے والے ٹینکر کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پیشگی اجازت اور رابطہ ضروری ہے۔
امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز آمدورفت کے لیے کھلا ہوا ہے، جہازوں کے لیے محفوظ گزر گاہیں قائم کی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز آمد و رفت کے لیے کھلی ہوئی ہے، تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزر گاہیں قائم کی ہیں۔
امریکی سینٹ کام نے بیان میں کہا ہے کہ گزرگاہیں ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے والے تمام جہازوں کے لیے کھلی ہیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 ماہ میں 100 سے زائد جہازوں نے آبنائے ہرمز پار کی۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج کسی بھی ایرانی جارحیت کے خلاف دفاع کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا بیان میں کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی مدد کے لیے خفیہ مشن کی ہدایت کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ مشن کے نتیجے میں 10 کروڑ سے زائد بیرل تیل آبنائے ہرمز کے راستے سے گزر کر عالمی منڈی تک پہنچا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج شکست خوردہ اور معیشت تباہ ہو چکی، ایران کا معاملہ ختم ہو گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ایران سے معاہدے کے حتمی نکات طے ہو گئے ہیں۔















Post your comments