یمن کے حوثیوں نے باب المندب میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جزیرے میون پر کنٹرول حاصل کرلیا، اس کا مقصد عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری تجارتی راستے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔
یمنی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز باب المندب میں واقع جزیرے سے نکل گئی ہیں۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع مرکزی علاقے کے شہر ’ذباب‘ پر بھی قبضہ کر لیا۔
ادھر یمنی سرکاری فوج نے کہا ہے کہ فضائیہ نے پہلے سے اعلان کردہ کِل باکس میں بمباری شروع کردی ہے۔ شہری تعزالمخا روڈ اور المخا ذباب روٹ استعمال کرنے سے گریز کریں۔
حوثی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر سے اب تک سعودی قیادت کے حملوں میں 82 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر تحقیقی کمپنی این تھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ یمن میں حوثی جنگجوؤں نے اے آئی ماڈل کلاڈ کو رہنمائی، سمت بندی (گائیڈڈ) اور کنٹرول سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے کی کوششوں میں استعمال کیا۔
اس کا مقصد گائیڈڈ راکٹوں اور بیلسٹک و ہائپر سونک میزائلوں کی تیاری تھا۔
این تھروپک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے شمالی یمن میں موجود ایسے عناصر کے ایک گروہ کی نشاندہی کی جو ہتھیاروں کی تیاری کے 3 پروگرام چلا رہا تھا۔
کمپنی کے مطابق ان پروگرامز میں سے ایک گائیڈڈ راکٹ، دوسرا کثیر مرحلہ بیلسٹک میزائل، جس کی مطلوبہ رینج 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ بتائی گئی اور تیسرا ایسا میزائل منصوبہ شامل تھا جس میں ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل استعمال کیا جانا تھا۔
این تھروپک نے ان عناصر کو براہِ راست حوثی قرار نہیں دیا، تاہم برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے جمعے کو رپورٹ کیا کہ شمالی یمن میں موجود یہ گروہ بظاہر حوثی تنظیم سے منسلک تھا، جو اس علاقے کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان عناصر نے ڈرون کو سمت دینے اور اسے مستحکم رکھنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے کلاڈ کوڈ کو انسانی سافٹ ویئر انجینئرز کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔
این تھروپک نے کہا کہ اس کے حفاظتی نظام نے گروہ کی بہت سی درخواستوں کو روک دیا، تاہم تمام درخواستیں بلاک نہیں کی جاسکیں۔














Post your comments