محسن رضائی کی ایران کے اعلیٰ ترین سیکورٹی عہدے پر تقرری اہم کیوں؟ سابق پاسداران انقلاب سربراہ کو اہم ذمہ داری مل گئی۔ہرمز پر مذاکرات کے دوران تقرری کی غیر معمولی اہمیت،رضائی فوجی، سیاسی ومعاشی معاملات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں،تقرری کو سیکورٹی پالیسی میں سخت رویے کا اشارہ قراردیا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے سابق سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کردیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے چھ ٹاپ ملٹری کمانڈرز تعینات کردیے۔تعیناتی جنرل اسٹاف ، پاسداران انقلاب اور بسیج میں کی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق احمد وحیدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاسداران انقلاب کور کا کمانڈر انچیف مقرر کردیا گیا جبکہ مصطفیٰ ایزدی ان کے نائب ہوں گے۔
ریئر ایڈمرل علی عظمایی آئی آر جی سی نیوی کمانڈر اور حسین طائب کو بسیج فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح میجر جنرل علی عبداللهی کو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کردیا گیا جبکہ بریگيڈير جنرل کیومرث حیدری ان کے ہوں گے۔
واضح رہے کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر جبکہ ڈاکٹر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر جبکہ ڈاکٹر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کر دیا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر اور ڈاکٹر محسن رضائی کے نام مختلف پیغامات جاری کیے ہیں۔
باقر ذوالقدر کے نام جاری پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ آپ کے قیمتی تجربے کو مدِنظر رکھتے ہوئے میں آپ کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کرتا ہوں۔
باقر ذوالقدر اس سے قبل سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور ایران کے سیکیورٹی اور سیاسی امور میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تقرری مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ڈاکٹر محسن رضائی کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیے جانے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے قیمتی تجربے کو مدِنظر رکھتے ہوئے، میں آپ کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمانی اسپیکر و اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ فوجی تقرریاں مقرر کیے گئے کمانڈروں کے جنگی تجربے کی عکاس ہیں۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے 6 اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی تقرری پر دونوں نے ردِعمل دیا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ان 6 کمانڈروں نے حالیہ مسلط کردہ دونوں جنگوں کے دوران اپنی تجربے کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق باقر قالیباف نے کہا ہے کہ احمد واحدی نے حالیہ 40 روزہ جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کی تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس فورس کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی رہنمائی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ان تقرریوں میں مسلح افواج کے چیف اور ڈپٹی چیف آف اسٹاف، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر اور بسیج کے کمانڈر کے عہدے شامل ہیں۔














Post your comments