امریکا ایم او یو کے تحت اپنی ذمے داریوں پر واپس آیا تو فوری مثبت جواب دیں گے: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی ذمے داریوں پر واپس آیا تو ایران بھی فوری طور پر مثبت جواب دے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا ہے امریکا کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری نہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ایران نے امریکی ذمے داریوں کی خلاف ورزی کا متناسب جواب دیا۔

پزشکیان نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی مسابقت میں اضافہ، یکطرفہ پالیسیوں کا فروغ، فوجی طاقت کا استعمال، غیر قانونی یکطرفہ پابندیاں اور معیشت و ٹیکنالوجی کو بطور آلہ استعمال کرنے کے رجحان نے ترقی پذیر ممالک، ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ خطے میں طاقت کے استعمال پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل ممالک ہی نہیں بلکہ خطے اور دنیا کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔

ایرانی صدر  کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی تھے۔

انہوں نے کہا کہ دو دوست اور برادر ممالک پاکستان اور قطر کی ثالثی میں تقریباً 3 ماہ کے مذاکرات کے بعد 18 جون 2026ء کو اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق ہوا، تاہم امریکا 2 ہفتوں سے بھی کم عرصے میں اپنی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹ گیا۔

مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران نے ہمیشہ اپنے بین الاقوامی معاہدوں اور ذمے داریوں کی پاسداری کی ہے۔

ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران معاشی طور پر تباہی کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا، مرکزی بینک مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے زرِمبادلہ مارکیٹ میں 2 ارب ڈالرز تک فراہم کرنے کو تیار ہے۔

تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ایران کے واجبات کی وصولی اور زرِمبادلہ کے وسائل حاصل کرنے کا عمل جاری ہے، ملک کے پاس اندرونی ذخائر بھی موجود ہیں۔

انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس کافی زرِمبادلہ موجود ہے اور مغربی پابندیوں کے باوجود ملک کا معاشی نظام کام کر رہا ہے۔

مرکزی بینک کے گورنر کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ حقیقی معاشی عوامل کے بجائے موجودہ نفسیاتی فضا ہے۔

عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ایران کے پاس دیگر وسائل بھی موجود ہیں تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضروریات کا انتظام مشکل ضرور ہوا ہے لیکن ایرانی معیشت کبھی تباہ نہیں ہوئی اور نہ ہو گی، صورتِ حال جَلد معمول پر آ جائے گی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *