ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف کی قیادت میں ایران کی مذاکراتی ٹیم قطر میں بات چیت کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں جن میں میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو ہدف بنایا ہے جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے اور ان کا مقصد اپنے فوجیوں کو ایرانی فوج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانا تھاجبکہ امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے باوجودایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے‘ آبنائے ہرمز کو ہر حال میں کھلا رکھا جائے گا۔ امریکا کے صدرڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ افزودہ یورینیم واشنگٹن کے حوالے کیا جائے گا یا ایران کے ساتھ مل کر وہیں تباہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے تہران پر فضائی حملوں کا دوبارہ آغاز کیاتو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور طاقتور ہوگا‘ ممکنہ اہداف کی نشاندہی کرلی ہے‘ پاسداران انقلاب نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونیوالے امریکی ڈرون کومار گرانے اورF-35لڑاکا طیارے پر فائرنگ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاہےکہ دشمن کے ساتھ مذاکرات سراسر نقصان ہیں ‘تہران جواب دینے کیلئے تیار ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ واشنگٹن کو تمام نتائج کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ تہران کسی بھی جارحیت کا ضرور جواب دے گا۔ملکی دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا‘ سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے خبردارکیاہے کہ امریکا کو خطے میں اپنے اڈوں کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں ملے گا‘اسرائیل کا وجود خاتمے کے قریب ہے اور وہ اگلے 25 برس نہیں دیکھ سکے گا۔چین نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام اور اپنے تنازعات پرامن طریقے سے حل کریں۔بحری سلامتی کے نگراں ادارے یوکے ایم ٹی اوکے مطابق عمان کے ساحل کے قریب دھماکے سے ایک آئل ٹینکرکونقصان پہنچاہے ۔تفصیلات کے مطابق امریکی فوج کی طرف سے سیزفائر کے باوجود جنوبی ایران پر نئے فضائی حملے کیے گئے ہیں۔سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز کی طرف سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ 25مئی کی شب یہ فضائی حملے امریکی دستوں کو ایرانی فورسز کی طرف سے لاحق خطرات سے تحفظ دینے کے لیے کیے گئے مگر مجموعی طور پر امریکی فوج تاحال جاری فائر بندی کے دوران اپنی طرف سے احتیاط پسندی کا مظاہرہ اور عسکری کارروائیوں سے اجتناب کی سوچ اپنائے ہوئے ہے ۔ہاکنز نے کہا کہ حملوں کا ہدف ساحلی شہربندر عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔منگل کو جاری بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے‘ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے بدنیتی پر مبنی عزائم نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ تہران کا واشنگٹن کے بارے میں گہرا عدم اعتماد اس کے سابقہ طرزِ عمل کے تناظر میں منطقی اور حقیقت پسندانہ ہے ‘ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
)ٹرمپ کے ناقابل واپسی فیصلے اور صدارتی طاقت کا بڑھتا استعمال ، احکامات کو روکنے یا محدود کرنے میں زیادہ تر کردار عدالتوں، معاشی عوامل اور سیاسی دباؤ کا رہا ہے۔ فیصلے اکثر ا نفرادی اور فوری ، طویل مدتی اثرات پر مکمل غور نہیں کیا جاتا، سیاسی مقبولیت پر منفی اثر پڑا۔امریکی میڈیا کے ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران صدارتی اختیارات کو غیر معمولی حد تک وسعت دی ہے، تاہم ان فیصلوں کے طریقہ کار اور ان کے نتائج نے ان کی سیاسی مقبولیت پر منفی اثر ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اکثر اہم فیصلے اکیلے اور فوری انداز میں کرتے ہیں، جس میں مشیروں کے مطابق بعض اوقات طویل مدتی اثرات پر مکمل غور نہیں کیا جاتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر امریکی صدر اپنے اختیارات کی حدود کو آزماتا ہے، لیکن ٹرمپ نے یہ عمل تیزی اور غیر روایتی انداز میں کیا ہے۔















Post your comments