پیدائش شرح میں عالمی کمی سے طویل مدتی آبادی بحران کا خدشہ، سائنسدانوں نے وارننگ دی ہے کہ 2064تک عالمی آبادی میں شدید کمی، انسانیت آدھی ہو سکتی ہے۔ آبادی کمی کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی ،وبائیں، عالمی جنگیں اور وسائل کی شدید کمی شامل ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر شدید عالمی بحران پیش آئے تو 2064 تک انسانی آبادی میں نمایاں کمی ممکن ہے اور بعض سخت ترین مفروضوں میں دنیا کی آبادی آدھی بھی رہ سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف میلان کے محققین کے مطابق یہ نتیجہ ایک ریاضیاتی ماڈل پر مبنی ہے جس میں گزشتہ 12 ہزار سال کی انسانی آبادی میں تبدیلیوں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر موسمیاتی تباہی، وبائیں، عالمی جنگیں یا وسائل کی شدید کمی جیسے حالات پیدا ہوں تو زمین کی ’’برداشت کرنے کی صلاحیت ‘‘کم ہو کر تقریباً دو ارب افراد تک رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آبادی میں تیزی سے کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی حتمی پیشگوئی نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور بدترین صورتحال کا ماڈل ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آبادیاتی نظام بیرونی جھٹکوں کے لیے کس حد تک حساس ہو سکتا ہے۔
پیدائش کی شرح میں عالمی کمی سے طویل مدتی آبادی بحران کا خدشہ



Weekly Nawai Pakistan E Paper
Article
لکھنو میں ایک محرم۔ تحریر ظفر محمد خان
Posted in: Articles, Homeبرصغیر میں اردو زبان کے دو دبستان ہیں ایک دبستان دہلی اور دوسرا دبستان لکھنو ، دونوں شہروں نے اردو ادب کی ترقی وترویج میں بے حد حصہ لیا ہے اور اردو زبان کے قدیم افکار ان ہی دونوں شہروں سے نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آئے ہیں۔ لکھنو کے دبستان اردو میں میر […]
Read More










Post your comments