ایران کے شہید رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کی میت ایران سے عراق کے شہر نجف پہنچا دی گئی۔
ایئر پورٹ پر عراقی وزیراعظم، اعلیٰ عراقی حکام اور بڑی تعداد میں دیگر لوگ موجود تھے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی جلوسِ جنازہ میں شرکت کے لیے نجف پہنچے۔ تاہم ایران پر امریکی حملوں کے بعد وہ واپس وطن روانہ ہوگئے۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای کا جسد خاکی نجف میں امام علی کے روضے پر لے جایا جائے گا، بعد میں انہیں کربلا میں امام حسینؑ کے روضے پر بھی لے جایا جائے گا۔
اس سے قبل منگل کی صبح ایران کے شہر قم کی مسجد جمکران میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلخانہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
جلوس جنازہ میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے، جنازے کا جلوس کئی کلو میٹر تک پھیلا ہوا تھا، گود کے بچوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک سب جلوس جنازہ میں شریک ہوئے، انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔
تہران میں بھی آیت اللّٰہ خامنہ ای اور ان کے اہلخانہ کے نماز جنازہ میں انسانوں کا سمندر دیکھا گیا۔
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ کے مطابق نمازہ جنازہ اور جلوس جنازہ میں لاکھوں افراد موجود رہے۔
ایران کے شہید رہبر اعلیٰ کو 9 جولائی کو مشہد میں امام علی رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایران کے شہید رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہوئے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ عراق کے شہر نجف میں حضرت علی ؓ کے روضے پر ادا کر دی گئی۔
شہید رہبر کا تاریخی جلوسِ جنازہ کربلا کی جانب رواں دواں ہے، جس میں لاکھوں سوگوار شرکت کر رہے ہیں۔
شہید خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی میتیں کربلا میں روضۂ امام حسین ؓ پر پہنچا دی گئیں۔















Post your comments