گلگت بلتستان (جی بی) میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کی حکومت بننے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جی بی میں پی پی پی اور ن لیگ کا اتحاد پی ڈی ایم طرز پر ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ الیکشن میں کامیابی کی بدولت وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی اور گورنر مسلم لیگ ن کا ہوسکتا ہے جبکہ اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا 40 اور 60 ہوگا۔
اس سے قبل ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی تھی، جس میں گلگت بلتستان کے انتخابات اور آزاد کشمیر کی صورتحال سمیت قومی اہمیت کے امور پر گفتگو ہوئی تھی۔
ملاقات میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ موجود تھے۔
ملاقات میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، شیری رحمان، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا،وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور راجا پرویز اشرف بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نےحکومت آزاد کشمیر اور مقتدر قوتوں کو چاہئے کہ وہ آزاد کشمیر کی مخدوش امنِ عامہ اور عوام کے جائز مطالبات پر سنجیدہ رویہ اپنائیں اور تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ اپوزیشن اتحاد نے گلگت بلتستان کے انتخابات کو 2024ء کے عام انتخابات کا ʼایکشن ری پلےʼ قرار دیتے ہوئے انتخابی نتائج مسترد کر دئیے، اپوزیشن اتحاد نے بی این پی اور اختر جان مینگل کی 10 جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کا بھر پور حمایت کا اعلان بھی کر دیا ، گزشتہ روز تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشاورتی نشست قائد حزب اختلاف اور اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، سابق سپیکر اسد قیصر، سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اور اتحاد کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔ اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک کی موجودہ صورتحال پر نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو طاقت کے نشے میں اندھا دھند اقدامات کرنے پر متنبہ کیا اور آزاد کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دونوں جانب سے ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا۔















Post your comments