کوہاٹ، خودکش دھماکا، 21 شہید، 15 پولیس اہلکار، 6 شہری شامل، 103 زخمی، جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور ہلاک

خیبرپختونخوا پھر دہشتگردوں کے نشانے پر، کوہاٹ میں پولیس لائن کی مسجد پر خودکش حملہ، 15پولیس اہلکاروں اور 6 شہریوں سمیت 21 افراد شہید اور 103 زخمی ہوگئے، پولیس کے مطابق زخمیوں میں 73اہلکار جبکہ 30عام شہری شامل ہیں ،شہداء میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری اور دو پولیس اہلکار بھائی بھی شامل ہیں ، نعمت اللہ اور ان کے بھائی مہرر عصمت اللہ دونوں کا تعلق لکی مروت سے تھا،دھماکا نماز جمعہ کے دوران اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں ہوا،7حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی گیٹ سے ٹکرادی جبکہ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑادیا،دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ، مسجد کا بیشتر حصہ شہید ہونے کے ساتھ ساتھ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا،عوام اور ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاروائیوں میں حصہ لیا ،آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ شروع ہوگئی،دہشتگردوں نے پولیس لائنز کی عمارت میں دراندازی کی کوشش کی تاہم پولیس اورسی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے بھر پور مقابلہ کیا ، مشترکہ آپریشن میں اسنائپر سمیت تمام 6حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ،حملے کے بعد آئی جی پولیس ذوالفقار حمید دیگر افسران کے ہمراہ کوہاٹ پہنچ گئے جہاں انہوں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کی خود نگرانی کی، حملے کے بعد آئی جی پولیس ذوالفقار حمید دیگر افسران کے ہمراہ کوہاٹ پہنچ گئے جہاں انہوں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کی خود نگرانی کی، مشترکہ آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا ، لاشیں اور زخمی ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں ہنگامی صورت حال نافذ کردی گئی، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی،صدر مملکت آصف علی زرداری اوروزیراعظم میاں شہباز شریف، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ودیگر نے کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے،انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے، سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے،وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لے کر پولیس حکام سے رپورٹ بھی طلب کر لی،کوہاٹ دھماکے شہداء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ، وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کوہاٹ دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ تفصیلات کےمطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ہنگوپشاور روڈ پر پرانی پولیس لائن میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد شہیدہوگئے جن میں15پولیس اہلکار اور6عام شہری شامل ہیں جبکہً103سے زائدافراد زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا، جبکہ دیگر حملہ آوروں نے کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ حملے کےبعد آئی جی پولیس ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کوہاٹ کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔پولیس حکام کے مطابق آئی جی پی کی براہ راست نگرانی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اور کلیئرنس کا سلسلہ جاری رہا۔آئی جی ذوالفقار حمید نے واضح کیاکہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے جو دلیری سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایاجائے گا۔ سی ٹی ڈی ماہرین نے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کو صورتحال پر بریفنگ بھی دی اور بتایا گیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگایا جارہا ہے۔ ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ پولیس سربراہ کو پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کی ابتدائی رپورٹ بھی پیش کی گئی اور بتایاگیا کہ 7 مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جن میں مبینہ خودکش حملہ اور بھی شامل تھے۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)کوہاٹ نے پولیس لائن مسجد میں بم دھماکے کے بعد جاری کلیئرنس آپریشن کی قیادت کی،جی او سی کوہاٹ نے کلیئرنس آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے، عزم اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔اس موقع پر آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید بھی جنرل آفیسر کمانڈنگ کے ہمراہ موجود تھے۔جی او سی کوہاٹ نے پاک فوج اور پولیس کے جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور باہمی تعاون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خوارج کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور پولیس کے جوان صفِ اول میں کھڑے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *