امریکی رکنِ کانگریس یاسمین انصاری نے ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے مواخذے کا مطالبہ کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں یاسمین انصاری نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں جنگ شروع کیے جانے کے گزشتہ 6 ماہ کے دوران امریکی فوجی حملے میں ایک اسکول کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 120 بچے شہید ہوئے جبکہ 18 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔۔
انہوں نے کہا ہے کہ جنگ کے باعث امریکی شہریوں کو ریکارڈ بلند پیٹرول قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی رکنِ کانگریس کے مطابق دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے بیٹوں نے سرکاری معاہدے حاصل کرنے والی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر کے مسلسل منافع کمایا ہے۔
یاسمین انصاری کا کہنا ہے کہ نہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نہ ہی پیٹ ہیگستھ ایران جنگ میں کوئی مقصد حاصل کر سکے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فوجی اہلکاروں، بچوں اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں بے مقصد ہوئیں، اس لیے جنگ فوری ختم ہونی چاہیے اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔
سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں واضح حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث امریکا کے جنگی مقاصد بار بار تبدیل ہو رہے ہیں۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عراق اور کویت میں سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ شروع کرتے وقت تہران میں ایرانی حکومت کے خاتمے کے علاوہ کوئی واضح مقصد طے نہیں کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو سکا تو ٹرمپ نے آنے والے ہفتوں میں مزید 5 یا 6 مقاصد پیش کیے تاہم اب یہ مقاصد ایک بار پھر تبدیل ہو گئے ہیں۔
ڈگلس سلیمان نے کہا کہ ٹرمپ اب آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے یا ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں۔
سابق امریکی سفارت کار کے مطابق ان مقاصد میں تبدیلی کو وائٹ ہاؤس میں موجود ریپبلکنز جنگی حکمتِ عملی کو واضح کرنا قرار دے سکتے ہیں جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ اس بات کی علامت ہے کہ جنگ شروع کرتے وقت امریکا کو معلوم نہیں تھا کہ اسے کیا حاصل کرنا ہے اور اب جنگ سے نکلنے کے لیے اہداف کا معیار کم کیا جا رہا ہے۔














Post your comments