گزشتہ سال 10 مئی کو جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک مختصر سی جنگ کے بعد سیز فائر ہوا تو یہ بات سامنے ائی کہ ہندوستان جس نے اپریشن سندور کی اڑ میں پاکستان پر حملے کیے تھے اس کو صرف تین دن کے اندر نو اور دس مئی کی رات کو پاکستان نے اپنی فضائیہ کی پوری صلاحیت کے ساتھ جو جوابی حملے کیے اور جس میں جے تھنڈر 17 جہاز استعمال ہوئے انہوں نے ہندوستان کی فضائیہ کو ناکوں چنے چبا دیے اور ان کے پانچ سے لے کر سات رافیل طیارے جو انہوں نے فرانس سے خریدے تھے اور جس پر ہندوستان کی حکومت کو بہت زعم تھا کہ وہ دنیا کے ناقابل تسخیر جہاز ہیں ، ان کو زمین بوس کر دیا گیا۔
ظاہر ہے اس کے بعد جنگ نے مزید بڑھ جانا تھا لیکن غالبا ہندوستان نے یہ بات پہچان لی کہ اگر جنگ مزید بڑھی تو اس نے جو اپریشن سیندور شروع کیا ہے اس کے حوالے سے اس کی بہت جگہ ہنسائی ہوگی لہذا اس نے امریکہ کی مدد سے سیز فائر کی درخواست کی اور پاکستان نے اپنے وسیع دل کا بھرم رکھتے ہوئے قبول کیا اور اس طرح سیز فائر ہوا اور اس رات پاکستان کے عوام سڑکوں پر نکل ائے انہوں نے پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے اور یہ وہ رات تھی جس کو دیکھ کر 1971 میں ہونے والی شکست کی یادوں پر کچھ مرہم لگا
میں اتفاق سے اس وقت پاکستان کے شہر کراچی میں موجود تھا اور ان سب جشن کے لمحات کو اور اس سے پہلے جنگ جیسے ماحول کو محسوس کر رہا تھا
لیکن اس سے بہت پہلے بات چلی ہے جب میں شاید دودھ پیتے بچے سے کچھ زیادہ عمر کا ہوں گا اور 1965 کی جنگ ہوئی جس سے مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ امی ابا چیخ رہے ہیں کہ کوئی تیسری گلی میں کسی گھر کے اوپر ایک شیل گرا ہے۔ لیکن اس کے بعد جنگ جنگ کی میں اوازیں سنتا رہا گھر کے انگن میں ایک ایل شیپ کے اندر خندق بھی کھودی گئی لیکن کبھی اس خندق میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا اور وہ خندق 1965 کی جنگ کے بعد 1967 تک ہمارے انگن میں کھدی رہی ۔
مجھے یاد ہے یہ خندق میرے چھوٹے ماموں اور والد نے مل کر کھودی تھی ۔ 65 کی جنگ کے بعد یوم دفاع پاکستان ہر سال چھ ستمبر کو جوش و خروش سے منایا جانے لگا فوجی پریڈیں ہوتی تھیں ٹینکوں کی نمائش ہوتی تھی اور پھر 1971 کا غمگین سال بھی اگیا ۔ کیونکہ ہمیں پورا یقین تھا کہ پاکستان ہر جنگ جیت جاتا ہے جیسا کہ 1965 کی جنگ بھی جیتا تھا جو کہ بعد میں پتہ چلا کہ ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی بہرحال 1971 کی جنگ کا اغاز بھارت کو کچلدو کے نعروں کے ساتھ ہوا جگہ جگہ دیواروں پر گاڑیوں پر اس زمانے کے اسٹیکروں کے ذریعے صرف یہ لکھا تھا بھارت کو کچل دو ۔ اور لگتا تھا کہ بھارت کو مغربی پاکستان میں نہیں مشرقی پاکستان میں بھی کچل دیا جائے گا لیکن پتہ چلا کہ بھارت نے پاکستان کو مغربی پاکستان پہ انگیج رکھ کر مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے ساتھ مل کر ہندوستان کو فتح کے قریب پہنچا دیا اور مشرقی پاکستان کے محروم عوام نے پاکستان سے ازادی حاصل کر لی اور پاکستان کی افواج کو ہتھیار ڈالنے پڑے وہ رات وہ دردناک رات میں کبھی نہیں بھول سکتا مجھے اچھا خاصا ہوش و حواس تھا شاید میں ساتویں کلاس کا طالب علم تھا پوری رات روتا رہا تھا کہ پاکستان ہار کیسے گیا ۔
1971 کے بعد شملہ معاہدہ ہوا اور اس کے بعد ہندوستان سے جھڑپیں کشمیر کے محاذ پر چھوٹی موٹی چلتی رہیں لیکن تعلقات میں بہتری ائی 80 سے لے کر 2ہزار کی دہائی تک انا جانا عام رہا اور ایسا لگتا تھا اب ہندوستان پاکستان میں جنگ کبھی نہیں ہوگی کیونکہ اس دوران میں کئی موقع سے ائے تھے جب پاکستان سرحدوں پر الرٹ ہو گیا تھا ہندوستان بھی الرٹ ہو گیا تھا پاکستان نے ایف 16 جب امریکہ سے خریدے تو ہندوستان میں بہت ڈر اور خوف تھا وہاں کے ہندی اخباروں میں یہ کارٹون بنتے تھے جس میں لکھا ہوتا تھا
” ضیا بے قرار ہے جنگ کو تیار ہے
اجا میرے ایف س تیرا انتظار ہے
اس طرح بہت سے معاملات ائے جس میں سیاچن کا معاملہ بھی شامل ہے کارگل کا معاملہ بھی شامل ہے لیکن ہندوستان پاکستان میں جنگ کی صورتحال پیش نہیں ائی اور بالاخر ہندوستان میں بی جے پی کی مودی حکومت قائم ہو گئی جو انتہا پسند ہندوتھوا کے ایجنڈے پر کام کر رہی تھی جس کا مقصد ہی پاکستان اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں سے ہندو اکثریت کو ڈرا دھمکا کے ووٹ حاصل کرنا تھا ۔ اور اس پروپگنڈہ کی وجہ سے بی جے پی مسلسل تین انتخابات میں کامیاب ہوئی اور تیسری مرتبہ انتخابات میں کامیابی کے بعد نام نہاد پہلگام میں دہشت گردی کا بہانہ بنا کر جس میں بھارت پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت اج تک فراہم نہیں کر سکا اور نہ ہی دنیا نے اس کو پاکستان کی طرف سے کوئی دہشت گردانہ حملہ تصور کیا لیکن ہندوستان نے پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے اپریشن سندور کا اعلان کیا اور اس اپریشن سندور کے اغاز پر پاکستان کے چند شہروں کے مدرسوں پر جسے مریدکے کا مدرسہ بہاولپور کا مدرسہ شامل ہے رات کی تاریکی میں میزائل مارے گئے ۔ نہتے معصوم شہریوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا ۔ یہ عظیم کارنامہ بقول ہندوستان کے چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان نے جوابی حملے کیے ۔ بھارت کو اپنے سرحدی علاقوں میں بلیک اؤٹ تک کرنا پڑ گیا جس کا اج کل کی نان کنونشنل جنگ میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ لیکن اصل معرکہ 10 فروری کی رات ہوا جب پاکستان کے ہوائی بیڑے نے چین کے بنے ہوئے ایس تھنڈر 35 جہازوں کے ذریعے ہندوستان پر حملہ کیا ان کی تکنیکی طور پر تمام صلاحیتوں کو جام کر دیا گیا اور ہمارے جہازوں نے ہندوستان کے پانچ سے لے کر سات رافیل جہاز تباہ کر دیے جو ہندوستان نے فرانس سے بڑے جوش و خروش کے ساتھ خریدے تھے اور ان کو خریدنے کے بعد باقاعدہ ان پر ہندو عیسائی اور مسلمان مذہبی رہنماؤں کو بلا کر دعا کروائی تھی ۔ ان جہازوں کو گرا دیا گیا جس کی تصدیق ہندوستان تو اج تک روتے دھوتے نہیں کرتا لیکن امریکہ کے صدر ٹرمپ نے بارہا مختلف موقعوں پر کھلے عام کہا کہ میں نے ہندوستان کے سات طیاروں کے تباہ ہونے کے بعد سیز فائر کروایا تاکہ مزید تباہی نہ ہو ۔
ہندوستان کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد شاید ائندہ وہ اس قسم کے اپریشن کرنے کے بارے میں 100 مرتبہ سوچے گا ۔ کیونکہ ایک تو جنگ اب پرانی کنونشنل یا روایتی جنگ نہیں رہی ہے اب اس کو اعصابی جنگ کہہ سکتے ہیں اس کو کمپیوٹر کی جنگ کہہ سکتے ہیں اس کو ٹیکنالوجی کے جنگ کہہ سکتے ہیں اور پاکستان نے چین سے صرف طیارے ہی نہیں لیے بلکہ ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے حساس ترین معلومات بھی حاصل کی جبکہ ہندوستان ابھی تک رافیل لڑاکا جہازوں کو سمجھ بھی نہیں پایا ہے ہے اور وہ جہاز میں کسی بھی قسم کی مرمت کے لیے فرانس کے محتاج ہیں جبکہ پاکستان نے چائنا کے جہازوں کے اوپر فل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے اور ہندوستانی میڈیا اپنی ہزیمت چھپانے کے لیے اب یہ بیان دے رہا ہے کہ 10 مئی کو جب پاکستان نے ہندوستان کی فضائیہ پر جھاڑو پھیری اس وقت چائنہ کے اس تھنڈر 17 جہاز کہ ائی ٹی ایکسپرٹ خود طبعی طور پر پاکستان میں موجود تھے ۔
ان کے اس بے سروپا فسانے سے جو انہوں نے اپریشن سندور کی سالگرہ کے موقع پر باقاعدہ ایک بیان کے ذریعے جاری کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اندرونی طور پر اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان کی فضائیہ سے اب مقابلہ کرنا ان کے بس کا نہیں رہا ۔ حالانکہ پاکستان نے اپنی وار گیم کے مطابق ہندوستان کے فضائیہ کو جام کیا تھا اور ان کو ناکارہ کر کے رکھ دیا تھا اگر یہ جنگ کچھ دن اور ٹھہر جاتی تو پاکستان نے اس سے کہیں اگے جانا تھا
پاکستان نے اس سال مئی کی 10 تاریخ کو عظیم فتح کی یاد منائی اور اس موقع پر ہمارے فوجی ترجمانوں نے بتایا کہ ائندہ اگر جنگ ہوئی تو پاکستانی فضائیہ حملے کا اغاز وہاں سے کرے گی جہاں ہندوستان کا دوسرا سرا ہے یعنی مغربی بنگال سے یا اسام سے اپنے اٹیک شروع کرے گی اور ان کو کھینچتے ہوئے مشرقی سرحد پر پنجاب اور سندھ تک لے کر ائے گی ۔
پاکستان کی فوج نے یہ بات ایسے نہیں کہہ دی ہے کہ صرف ہندوستان کو دھمکی لگانی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے خاص طور پر فضائیہ میں اور اس کے علاوہ بحری طور پر بھی اپنے اپ کو اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ ہندوستان کے لیے اب 1971 والی باتیں صرف ایک خواب ہو کے رہ گئی ہیں ۔
ہندوستان نے مودی کے جنگی جنون کے زعم میں جو غلطی اپشن سندور کی شکل میں کی کہ پڑوسی ملک کے اوپر فضائیہ کے ذریعے اس کی پرامن ابادیوں پہ حملے کرنا انتہائی خسارے کا سودا ہے کیونکہ اس طرح یہ ایک جنگ کا اغاز ہوتا ہے اور پھر جوابی عمل کے اندر اپ کے لیے مدافعت بہت مشکل ہو جاتی ہے جو کہ ہندوستان کے لیے ہوئی ۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک پر دہشت گردی کے الزام لگانا بہت اسان ہے صرف اپنی حکومت اور اپنے لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے خارجہ پالیسی کی تباہی اس کا نتیجہ ہوتا ہے جو ہندوستان کے ساتھ ہوا
جو ہندوستان مودی کے ساتھ مل کر یہ سوچ رہا تھا کہ پاکستان کو دنیا میں ائیسولیٹ کر کے رکھ دے گا تنہا کر کے رکھ دے گا اج کچھ ایسا ماحول ہوا ہے کہ ہندوستان خود دنیا میں تنہا نظر اتا ہے ۔ اس کی مت ماری گئی تھی اس نے جا کے اسرائیل سے ایسے تعلقات بڑھا لیے جیسے وہ اس کا مائی باپ ہو اور اس کے بعد ہندوستان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ ایران کے روحانی سربراہ خامنہ ای کی موت پر ان سے تعزیت ہی کر پائے ۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کا نتائج کچھ بھی ہوں لیکن امریکہ اور ایران کے لیے اس وقت دنیا بھر میں قابل اعتبار صرف پاکستان ہے اور پاکستان اس وقت دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے وہ کام کر رہا ہے جو کسی اور ملک کے تصور میں بھی نہیں ا سکتا
اج دنیا میں تیل اور پیٹرو ڈالر اور ایٹمی اسلحے کی تیاری کے نام پر ضد کا نتیجہ تیسری جنگ عظیم کی صورت میں پیش اس سکتا تھا جس کو پاکستان نے اپنی فراست اور بردباری کے ساتھ ناکام بنایا امریکہ اور ایران کو پہلی مرتبہ ایک میز کے اوپر بٹھایا اور اسلام اباد مذاکرات بظاہر مکمل نہ ہونے کے باوجود اس بات کی پوری امید ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہوگا جو امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات کو سدھارنے کے لیے اپنا وزناستعمال کرے گا اور امید ہے کہ کوئی ایسا معاہدہ ہو جائے گا جس میں دنیا کی بھلائی ہوگی
پاکستان میں فوجی قیادت اور سیاسی قیادت کو ایک پیج پر ہونا نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دنیا بھر کے امن کے لیے بے حد ضروری ہے اور ایسا موقع اگر اس وقت موجود ہے کہ بردبار سیاسی قیادت بھی موجود ہے اور انتہائی ذہین فوجی قیادت بھی موجود ہے اور ان قیادت کو دنیا میں عالمی سطح کے اوپر تسلیم بھی کیا جا رہا ہے تو اس سسٹم کو ابھی اگے چلنا چاہیے اگے مرحلے سنگین بھی ہیں پریشان کن بھی ہیں اور دنیا کے لیے بھی یہ بات موجود ہے اور پاکستان کے داخلی مسائل کے طور پر موجود ہے لہذا ان دونوں گروپوں کو مل کے چلنا چاہیے اور پاکستان کے لیے بہتری کی امید انہی فیڈ مارشل اور انہی وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے
ZMK














Post your comments