بعد از معرکہِ اخوند سالاک: ڈوما کافر کا چھلیس قبیلہ اور شجرۂ نسب تحریر و تحقیق: نجیم شاہ

تاریخ کا سفر بسا اوقات حکمرانوں اور سلطنتوں کو محض لوک داستانوں کی دھند میں چھپا دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک تاریخی شخصیت ’’ڈوما سنگ‘‘ المعروف ڈوما کافر کی ہے، جو سترہویں صدی تک دریائے سندھ کے کناروں، بونیر، شانگلہ اور تورغر کے فلک بوس پہاڑوں پر محیط ایک آزاد ریاست کا حکمران تھا۔ اُسکی حکومت کا خاتمہ محمد اکبر شاہ المعروف اخوند سالاک اور بہاکو خان کی مشترکہ مہم کے نتیجے میں ہوا۔ اگرچہ ڈوما سنگ کی سیاسی بساط صدیوں پہلے لپیٹ دی گئی تھی، مگر موجودہ دور کے مؤرخین اور ماہرینِ لسانیات کیلئے اُسکی اصل نسلی شناخت، اُسکا قبیلہ اوراُسکی اولاد سے پھوٹنے والی شاخیں آج بھی تاریخ کا ایک انتہائی دلچسپ، منفرد اور اہم باب ہیں۔

ڈوما سنگ کی نسلی حقیقت کو سمجھنے کیلئے پہلے اُس دور کے ’’داردستان‘‘ کے جغرافیے اور اُس کی اقوام کو سمجھنا ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں چترال سے لے کر کشمیر تک پھیلا ہوا یہ پورا پہاڑی خطہ داردستان کہلاتا تھا، جہاں کوئی ایک مرکزی بادشاہت قائم نہیں تھی، بلکہ مختلف وادیوں میں مقامی سردار، میر، مہتر اور راجگان اپنی بستیوں پر خود مختار حکمرانی کرتے تھے۔ داردستان کے یہ قدیم داردی قبائل شین، یشکن، کمین، توروال، کتہ، کھو، پشائی، گاؤوری، گبارہ اور چھلیس جیسے بڑے اور معتبر نسلی گروہوں میں تقسیم تھے، جن کی تاریخ کا زیادہ تر دارومدار نسل در نسل منتقل ہونیوالی زبانی روایات اور لوک داستانوں پر ہے۔

جہاں تک ڈوما سنگ کی نسلی شناخت کا تعلق ہے، تو مؤرخین کے ہاں اِس بارے میں ماضی میں مختلف آراء ملتی رہی ہیں۔ بعض لکھاریوں نے اس کے جنگجو مزاج اور تاتاری حملوں کے تناظر میں اُسے تاتاری النسل قرار دیا، جبکہ کچھ روایات میں اُسے ہندو سردار یا کالاشی حکمران بھی لکھا گیا؛ حتیٰ کہ یہ قیاس بھی کیا گیا کہ وادی ہنزہ کے مومن آباد میں آباد ڈومکی لوگ شاید اسی کے قبیلے سے ہیں۔ تاہم، جدید ترین تحقیقی، لسانی اور ثقافتی شواہد ان تمام آراء کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ڈوما سنگ کا تعلق دراصل داردستان کے ایک نہایت اہم، جری اور قدیم داردی قبیلے ’’چھلیس خیل‘‘ سے تھا۔

یہ چھلیس یا چھلیسی قبیلہ داردی خاندان کا ایک نہایت طاقتور اور بااثر لسانی و ثقافتی گروہ مانا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ ماضیِ بعید میں سوات اور تورغر کے مغربی اطراف میں آباد تھا، جس نے وقت کے ساتھ انڈس کوہستان کی طرف نقل مکانی کی اور بعد میں ان کے کئی گھرانے چلاس، گلگت اور غذر کی وادیوں میں جا آباد ہوئے۔ کوہستان اور گلگت کے پہاڑوں میں آباد چھلیس قبیلے کی ذیلی شاخیں آج بھی ڈوما سنگ کو اپنا جداعلیٰ اور دارد قبائل کا آخری عظیم اور طاقتور بادشاہ تسلیم کرتی ہیں، جو اِس بات کی ٹھوس دلیل ہے کہ وہ کوئی بیرونی حملہ آور نہیں بلکہ اسی دھرتی کا بیٹا تھا۔

ڈوما سنگ کی نسل اُسکے بیٹوں سے آگے بڑھی، جن کے نام پشے، لشرے، بچے، دم سنگ، کھیروے، مینتہ، شانرہ، نسرہ، ڑگو اور کھوٹو بتائے جاتے ہیں۔ ڈوما کے ان بیٹوں کی اولاد نے وقت کی رفتار کے ساتھ انڈس کوہستان، چترال اور گلگت کے دشوار گزار پہاڑوں میں اپنی بقا کو برقرار رکھا اور کئی نامؤر ذیلی قبیلوں کی بنیاد رکھی۔ مثال کے طور پر پشے کی اولاد پُشو یا پُشے چھلیس خیل کے نام سے مشہور ہوئی، لشرے کی نسل لشرا خیل کہلائی، جبکہ بچے، مینتہ اور دم سنگ کی اولادیں بالترتیب بچے چھلیس خیل، مینتہ چھلیس خیل اور دم سنگ چھلیس خیل کے نام سے موسوم ہوئیں۔ یہ تمام مسلم قبائل ہیں ،تاہم انکا جداعلیٰ ڈوما سنگ غیر مسلم تھا۔

انڈس کوہستان کی تاریخ میں اس چھلیس خیل قوم کے دو انتہائی نامؤر اور اثر و رسوخ والے سردار گزرے ہیں، جن میں سے ایک کا نام دم سنگ اور دُوسرے کا بوٹی سنگ تھا۔ ان دونوں سرداروں نے اپنے دور میں اس داردی قبیلے کی بقا، ترویج اور شناخت کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔ آج بھی اس قدیم قبیلے کی کثیر تعداد اور کئی نامؤر ذیلی شاخیں انڈس کوہستان کے علاقوں بالخصوص جلکوٹ اور کولئی میں آباد ہیں، جو اپنی روایتی بہادری اور جنگجویانہ مزاج کیساتھ خطے میں اپنی مضبوط پہچان رکھتی ہیں۔

ڈوما سنگ کی ہلاکت اور ریاست کے خاتمے کے بعد، اس داستان کا ایک انتہائی اہم پہلو جنگی قیدیوں اور مفتوحہ علاقوں کا نظم و ضبط ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق، جنگی قیدیوں میں ڈوما کی حسین و جمیل بیٹی شہزادی گورجیت اور اُس کی بیوی ملکہ شنڈی بھی شامل تھیں۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ اخوند سالاک نے شہزادی گورجیت کو بہاکو خان کے عقد میں دے دیا تھا۔ تاہم، ایک اور مفصل تاریخی روایت کے مطابق حضرت اخوند سالاک اس مہم کے بعد علاقہ پکھلی، الائی، نندیاڑ اور کوہستان چلاس تک کے غیر مسلموں کو شکست دیتے اور انہیں دائرہ اسلام میں داخل کرتے رہے۔

اِن تمام علاقوں کی مکمل تسخیر کے بعد، اخوند سالاک نے اس جہادی مہم میں شریک مقتدر سرداروں اور غازیوں میں خصوصی انعامات تقسیم کیے۔ اُنہوں نے بہاکو خان کو اپنی خاص تلوار عطا کی اور عمر خان رزڑ شیوہ کو اپنا سجادۂ خاص ، جبکہ ایک دوسرے خانِ رزڑ کے نکاح میں ڈوما کی لڑکی شہزادی گورجیت اور ایک تیسرے خانِ رزڑ کے عقد میں ڈوما کی بیوہ ملکہ شنڈی کو دیا۔ ڈوما سنگ کی سلطنت بھلے ہی دم توڑ گئی، مگر اس کا خون اور قبیلہ وقت کے بے رحم تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے ہوئے آج بھی انڈس کوہستان، دیر، سوات، چترال اور گلگت بلتستان کی مسحور کن وادیوں میں اپنی داردی شناخت کے ساتھ پوری آب و تاب سے زندہ ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *