ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی میڈیا کو حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ پینٹاگون امریکا کی جانب سے 6 ماہ سے زائد عرصہ قبل شروع کی گئی جنگ کے نقصانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تصاویر میں کویت کے 3 فوجی اڈوں اور سعودی عرب کے 1 ایسے اڈے پر تباہ شدہ عمارتیں اور 1 طیارہ دکھائی دیتے ہیں جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں، ان میں سے بعض اڈوں کو خالی بھی کرا لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر مارچ کے اواخر میں ایک E-3 سینٹری نگرانی کرنے والے طیارے کو نقصان پہنچا، جس کی مالیت 27 کروڑ ڈالرز بتائی جاتی ہے۔
اے بی سی نیوز کے مطابق ایک سینئر امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ان اڈوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور اگر ہم انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ کئی دہائیوں پر محیط کام ہو گا۔
اس فوجی اہلکار نے پینٹاگون پر شفافیت کی کمی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملے اور بیلسٹک میزائل حملے ہر روز براہِ راست اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
نگراں ادارے نے جنگ کی لاگت کا تخمینہ 33 ارب ڈالرز لگایا ہے، جبکہ غیر جانب دار کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق یہ لاگت 38 ارب ڈالرز ہے۔
امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 824 زخمی ہو چکے ہیں، سب سے ہلاکت خیز حملہ جنگ کے دوسرے روز ہوا، جب کویت میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ فوجیوں اور فوجی تنصیبات کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض ایرانی ہتھیار امریکی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ میں کم از کم 22 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہیں۔















Post your comments