یمن میں حوثی جنگجوؤں کی کارروائیاں تیز‘پیش قدمی جاری ‘مزید2جزائر پر کنٹرول ‘مغربی یمن میں حوثیوں کے میزائل حملوں میں حکومتی فورسز کے آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے۔حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے خمیس مشیط فوجی اڈےپر بھی میزائل اورڈرونزداغ دیئے ‘حوثیوں کے مطابق حملے میں طیاروں کے ہینگرز‘ ریڈار سسٹم ‘رن ویز اوراسلحہ ڈپوکو نشانہ بنایا گیاجبکہ حوثی مخالف میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری فوج نے مغربی تعز میں پیش قدمی کرتے ہوئے حوثیوں کے متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے‘ حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن پر 54فضائی حملے کیے‘ ادھرپاسداران نے ہرمز کے اوپر ایم کیو ون ڈرون مارگرانے کا دعویٰ کیاہے ‘ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں ‘ اصولی طورپر ایران کے ساتھ معاہدے کا راستہ کھلا ہےتاہم اس معاملے پر آگے کیاکرنا ہے فیصلہ میں کروں گاجبکہ امریکا کے نائب صدرجے ڈی وینس کے مطابق یمن کی صورتحال پر گہری نظرہے ‘ حوثیوں سے براہ راست بات چیت کر رہے ہیں‘امریکا کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے‘ ادھر سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان نے پیر کوجدہ میں سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی ہے جس کے دوران دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا‘ دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پرحملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہےجبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پیرکو عمان میں خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے والا اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر ملتوی کیا گیا‘ ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ لگ گئی جبکہ عمانی ساحل کے قریب تجارتی جہاز پر حملہ کیا گیا‘جہاز پر عملے کے 14 انڈین ارکان سوار تھے جن میں سے 13 کو بچا لیا گیا ہے جبکہ ایک انڈین اب بھی لاپتہ ہے۔ انڈین وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کی ہے۔
ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انصار اللہ کے خلاف اسرائیل سے انٹیلی جنس معاونت طلب کرلی۔
اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد نے اسرائیل اور خلیجی ممالک سے براہ راست اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعے بالواسطہ رابطے کر کے معاونت طلب کی ہے۔
اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے حوثی گروپ انصاراللہ کے خلاف حملوں کی درخواست مسترد ہونے کے بعد سعودی عرب شدید مشکلات سے دوچار ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی۔
سعودی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق جدہ میں ہونے والی ملاقات میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمنی حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
دریں اثناء یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللّٰہ نے سعودی عرب میں ڈرونز اور میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔














Post your comments