11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکا کی قیادت میں شروع ہونے والی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کو 25 سال مکمل ہو گئے۔
عرب میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 25 سالہ امریکی جنگوں میں 45 لاکھ سے 47 لاکھ افراد براہ راست یا بالواسطہ ہلاک ہوئے جبکہ 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
عرب میڈیا کے مطابق افغانستان میں 2001ء میں شروع ہونے والی جنگ تقریباً 20 سال جاری رہی جس میں 1 لاکھ 76 ہزار افراد براہ راست ہلاک ہوئے۔
2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے نتیجے میں تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار براہِ راست ہلاکتیں ہوئیں۔
اسی طرح امریکا نے پاکستان، یمن، صومالیہ، لیبیا اور شام سمیت کئی ممالک میں فضائی اور ڈرون کارروائیاں بھی کیں، عراق و شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں امریکی حکام نے 1417 شہری ہلاکتوں کا اعتراف کیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکا کی جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد 1 ہزار417 نہیں بلکہ یہ تعداد 8264 سے 13360 تک ہو سکتی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگوں کے باعث لاکھوں افراد آج بھی بے گھر ہیں جبکہ امریکی فوجیوں نے بھی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
افغانستان میں تقریباً 2500 امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہوئے جبکہ عراق جنگ میں 3481 امریکی فوجی ہلاک اور 31 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
امریکا نے دو دہائیوں سے زائد عرصے پر مشتمل جنگوں پر تقریباً 5.8 کھرب ڈالر خرچ کیے جبکہ سابق فوجیوں کی دیکھ بھال پر مزید 2.2 کھرب ڈالرز کے خرچے متوقع ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی جنگوں کے اثرات ذہنی صحت، خود کشیوں، معاشی بوجھ اور طویل مدتی بے گھری کی صورت میں آج بھی برقرار ہیں۔
امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کی 25ویں برسی پر اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے متعلق درجنوں خفیہ دستاویزات جاری کر دی ہیں۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگست 1998ء میں امریکی صدر بل کلنٹن کو بتایا گیا تھا کہ بن لادن امریکی سرزمین، خصوصاً واشنگٹن کو نشانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے، القاعدہ کی جانب سے دھماکہ خیز مواد سے بھرے طیارے کو کسی امریکی شہر سے ٹکرانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق دسمبر 1998ء کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بن لادن کے بعض ساتھی طیارہ اغواء کرنے کی تربیت لے چکے تھے اور نیویارک کے ایک ایئر پورٹ پر سیکیورٹی سے بچنے کی آزمائش بھی کر چکے تھے۔
aعرب میڈیا کا کہنا ہے کہ دستاویزات میں بن لادن کے بم بنانے کے لیے تابکار مواد حاصل کرنے اور دھماکہ خیز مواد پر تجربات کا بھی ذکر موجود ہے۔
دستاویزات میں شامل 12 ستمبر 2001ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں حملوں کی منصوبہ بندی 2 سال سے جاری تھی اور امریکی دارالحکومت کو بھی نشانہ بنایا جانا منصوبے میں شامل تھا۔














Post your comments