ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے

امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ فورسز نے کویت کے احمد الجابر ایئربیس پر نصب ابتدائی انتباہی ریڈار، میزائل دفاعی ریڈار سسٹم، ایف پی ایس-117 ریڈار، پیٹریاٹ دفاعی نظام اور فضائی دفاع کے سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں ریڈار کوریج کو ختم کرنا تھا تاکہ آئندہ میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے کامی کازی ڈرونز کے ذریعے کویت میں امریکی فوج کی 3 اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایرانی فوج کے مطابق کیمپ عریفجان میں انتظامی عمارتوں اور سمت شناسی  اینٹیناز، کیمپ العدیری میں ہیلی کاپٹروں کی پارکنگ جبکہ احمد الجابر ایئربیس پر فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج کی کارروائیوں کے باعث خطے کا امن متاثر ہوا ہے اور ایرانی مسلح افواج امریکا کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے خطے میں امن و استحکام بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کویتی فوج کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں بھی امریکی دفاعی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا۔

سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق آئی آر جی سی نے کہا ہے کہ بحرین کے محرق علاقے میں امریکی فضائی دفاعی نظام اور ریڈار کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ الرفاع میں مربوط میزائل اور ڈرون حملے کے ذریعے امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ہزاروں یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز پِک ایکس ماؤنٹین کی سرنگوں میں منتقل کر دیے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ ایران نے گزشتہ موسمِ خزاں کے دوران ہزاروں یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز پِک ایکس ماؤنٹین کے اندر واقع سرنگوں میں منتقل کر دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے یہ انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ بھی شیئر کیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز پِک ایکس ماؤنٹین میں منتقل کرنے کے باعث فضائی حملوں کے ذریعے انہیں نشانہ بنانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی جون 2025ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد خزاں کے موسم میں عمل میں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹری فیوجز کو پِک ایکس ماؤنٹین منتقل کیے جانے کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ ایران وہاں یورینیم افزودگی کی نئی تنصیب قائم کر رہا ہے، بلکہ امکان ہے کہ تہران نے حملوں میں محفوظ رہنے والے آلات کو مستقبل کے ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے زیرِ زمین محفوظ مقام پر منتقل کیا ہو۔

واضح رہے کہ یہ اقدام جون 2025ء میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد کیا گیا، اس دوران امریکا نے ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بی-52 بمبار طیارے استعمال کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پِک ایکس ایک ممکنہ ہدف ہے، جہاں مرکزی داخلی راستے کے قریب ایک بڑا اور طاقتور حملہ کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا تھا کہ ہمیں وہاں کسی قسم کی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ وہ اپنے جوہری پروگرام کی صورتحال میں بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہے، قوی امکان ہے کہ ہم نسبتاً جلد پِک ایکس کو نشانہ بنائیں گے۔

اس ماہ کے آغاز میں سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ سیٹلائٹ تصاویر میں پِک ایکس ماؤنٹین کی تنصیب پر ٹرکوں کی آمدورفت دیکھی گئی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر اپنی جوہری تنصیبات کی بحالی پر کام کر رہا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *