ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ مذاکرات کاروں نے 10روزہ جنگ بندی کی تجویزدی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ایران، امریکا عبوری معاہدے کی بحالی کےلیے تجویز دی گئی ہے، مذاکرات کاروں نے ایران امریکا کشیدگی میں کمی کیلئے بھی تجویز پیش کی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جنگ بندی کا مقصد مفاہمتی یادداشت کو بحال کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہے، جنگ بندی تجویز میں آبنائے ہرمز کو 10 دنوں سے دو ہفتوں کیلئے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے فعال ہیں، ثالثوں کے ذریعے تجاویز ہم تک پہنچائی گئی ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران، اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر جنگ اور سفارت کاری دونوں کا راستہ اختیار کرتا ہے، سفارت کاری ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے قومی مفادات اسی طرح حاصل کرتے ہیں جیسے جنگ کے ذریعے کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کا بہانہ بنا کر ایران کی سلامتی اور قومی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہو گی جب ایران کو میدان میں برتری حاصل ہو گی، جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے۔
ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا درست وقت وہ ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ آپ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتے، فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جنگ کے دوران ایران نے اپنے نظام کی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کئی بار مذاکرات کی کوشش کی اور یہ کوشش جاری رکھیں گے۔















Post your comments