افغانستان میں دہشتگردی کے بڑھتے خطرات، پاکستان اور خطے کی سیکیورٹی پر دباؤ میں اضافہ

افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے اثر و رسوخ میں اضافے کے باعث خطے کی سیکیورٹی کی صورتِ حال تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے۔ 

امریکی جریدے کے مطابق افغانستان کے دوبارہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے پاکستان پر دہشت گردی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کوئی بڑا دہشت گرد منصوبہ دوبارہ افغانستان سے ہی جنم لے سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021ء کے انخلاء کے نتائج امریکا کے ایک اہم علاقائی شراکت دار پاکستان پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔

امریکی جریدے کے مطابق امریکی انتظامیہ کو دوحہ معاہدے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے کیونکہ طالبان اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

روسی خبر ایجنسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر نے وسطی ایشیائی ممالک کے 19ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

روسی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں اور ان کے جنگجوؤں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ کمیونیکیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، جو خطے خصوصاً ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

روسی عہدیدار کے مطابق ان گروہوں کو منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحے کی تجارت سے بھی مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *