حارث پر کیا گزری ترجمہ و تلخیص ۔۔۔۔ ظفر محمد خان

میرے عزیز دوست حارث 70 اور 80 کی دہائی کے درمیان سرکاری ملازم تھے وہ دور پاکستان کا ایک ایسا دور ہے جس میں پاکستان اہستہ اہستہ اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا اور ایک جمہوری حکومت پہلی مرتبہ برسر اقتدار ائی تھی اس دور میں ایک ایماندار انسان کے لیے سرکاری ملازمت کو کس طرح سنبھالنا ایک ازمائش بن گیا تھا اس کی کچھ مثال ان کی اپنی خود نوش میں موجود ہے میں نے ان کی اجازت سے اس کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا اس کے کچھ حصے پیش کرتا ہوں تاکہ ہم تھوڑی دیر کے لیے اس دور میں چلے جائیں جب بھٹو صاحب اقتدار میں نئے نئے ائے تھے اور اگے اپ خود محسوس کریں
مجھے پنجاب حکومت کے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) میں اپنی مختصر ملازمت یاد آتی ہے۔ جب 1975 میں ہماری کلاس نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور سے سول انجینئر کی ڈگری حاصل کی، تو سب سے بڑا چیلنج نوکری حاصل کرنا تھا۔ ہم نے آپس میں بات کی تو معلوم ہوا کہ 90 فیصد سے زیادہ طلبہ سرکاری نوکری کو ترجیح دیں گے۔ خوش قسمتی سے، کئی سالوں کے وقفے کے بعد بہت سے محکموں میں آسامیاں مشتہر ہوئیں۔ شاید سب سے زیادہ آسامیاں سی اینڈ ڈبلیو میں تھیں، چنانچہ ہم میں سے اکثر نے وہاں درخواست دی۔ ہمیں نوآبادیاتی نظامِ انتخاب ورثے میں ملا ہے۔
پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے امیدوار ٹیسٹ اور انٹرویو دیتے ہیں، اور آخر میں کامیاب امیدواروں کی میرٹ لسٹ جاری کی جاتی ہے، ہر امیدوار کو اپنا میرٹ نمبر نظر آتا ہے۔ یہ میرٹ ملازمت کے دوران برقرار رہتا ہے یہاں تک کہ آپ ریٹائر ہو جائیں۔ تمام امیدوار جو ملازمت میں شامل ہوتے ہیں، اکیڈمی میں تربیت سے گزرتے ہیں۔ یہاں آپ کو 3 سے 6 ماہ تک “آفیسر” کی حیثیت سے تربیت دی جاتی ہے۔ اکاؤنٹ کیپنگ، مینجمنٹ وغیرہ کے موضوعات کے ماہرین پڑھاتے ہیں۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد پہلی پوسٹنگ ملتی ہے۔ زیادہ تر کو پنجاب کے تحصیلوں یا اضلاع میں سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) کے طور پر تعینات کیا جاتا ہے، البتہ چند کو پنجاب کے ڈیزائن دفاتر میں بھی بھیجا جاتا ہے۔ عام طور پر سرکاری تعیناتی آپ کے آبائی شہر کے قریب ہوتی ہے مگر خود آبائی شہر میں نہیں۔ یہ نظام آج تک ہمارے نوآبادیاتی آقاؤں کی طرح ہی ہے۔
افسوس کہ اس دہائیوں پرانے نظام میں کوئی جدت نہیں آئی۔ آج بھی لوگ سرکاری ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے فوائد میں نوکری کی حفاظت، مراعات اور بھرپور آمدنی شامل ہے۔ ایک بار داخل ہو جائیں تو کوئی باہر نہیں نکال سکتا، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بہت سے چیلنجز ہیں۔ گریڈ 17 کے افسر (یعنی ایس ڈی او) کو برطرف کرنے کا اختیار سیکرٹری (سی اینڈ ڈبلیو) کو ہے اور وہ بھی صرف غبن یا دھوکہ دہی کی انتہائی سنگین صورتوں میں ایسی کارروائی کرتا ہے۔
اب میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کہ ملازمت کے دوران کون سے عہدوں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ ایک الٹے مخروط (inverted cone) کا نظام ہے جس میں ترقی ہوتی ہے۔ افسران کی سب سے نچلی سیڑھی ایس ڈی او ہے۔ اگر آپ کی سالانہ خفیہ رپورٹس (اے سی آر) تسلی بخش ہوں تو تقریباً 10 سالوں میں آپ ایگزیکٹو انجینئر (ایکس ای این) بن جاتے ہیں۔ پھر آپ سپرنٹینڈنگ انجینئر (ایس ای)، پھر چیف انجینئر (سی ای) اور آخر میں سیکرٹری کے عہدے تک پہنچتے ہیں۔ عام طور پر بہت کم افسران اپنے کیریئر میں سیکرٹری کا عہدہ حاصل کر پاتے ہیں اور زیادہ تر ایس ای کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہو جاتے ہیں۔
تاہم ان کی پنشن اور ملازمت کے دوران جمع کی گئی دولت ساتھ چلتی رہتی ہے۔ زیادہ تر ایس ڈی او اور ایکس ای این کو اپنی معمولی تنخواہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایس ڈی او کی تنخواہ 800 روپے ماہانہ سے بھی کم تھی۔ پھر آپ اپنے خاندان کی کفالت کیسے کر سکتے ہیں؟ یہی بات انہیں آمدنی کے “دوسرے” ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا ہی نظام ہے کہ ایک افسر جس کے پاس فنڈز جاری کرنے اور ڈرائیور، گاڑی، بڑا گھر جیسی مراعات کے اختیارات ہیں، اس کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی نظروں میں اپنا وقار برقرار رکھنا ناممکن پاتا ہے؟
اب میں اپنے ذاتی تجربے کو یاد کرنے کی کوشش کروں گا۔ برائے مہربانی نوٹ کریں کہ اوپر دیا گیا پس منظر بیان کرنا ضروری تھا۔ یہ 1975-76 کا عرصہ تھا اور میری تعیناتی جہلم میں بطور ایس ڈو بلڈنگز ہوئی۔ میرا دفتر سول لائنز میں تھا اور اسی کمپاؤنڈ میں میرے براہِ راست افسر ایکس ایں کا دفتر بھی تھا۔ میرے دفتر میں چار سب انجینئر یا اوورسیئر تھے جو تکنیکی مدد فراہم کرتے تھے۔ یہ اوورسیئر مختلف منصوبوں کی نگرانی کے لیے مقرر کیے جاتے تھے۔ ایس ڈی او ان کے درمیان کام تقسیم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایس ڈی او کی مدد کرنے والا ایک اہم شخص سب ڈویژن کلرک (ایس ڈی سی) ہوتا ہے جو دفتری امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
میرا دائرہ اختیار کافی وسیع تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورا تحصیل جہلم کا علاقہ، جو ایک طرف سہوہ تک اور دوسری طرف دریائے جہلم کو عبور کرتا تھا، میرے زیرِ انتظام تھا۔ چنانچہ اسکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، دیہی صحت مراکز، سنیما گھروں، ڈینہ میں پولٹری فارم، ایک ضلعی جیل وغیرہ عمارتیں میری ذمہ داری کا حصہ تھیں۔ ان مذکورہ عمارتوں میں سے کچھ زیرِ تعمیر تھیں اور کچھ کو وقتاً فوقتاً مرمت کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ اس میں نجی ٹھیکیداروں کا اہم اور محوری کردار ہوتا ہے، جنہیں ایکس ایں کے ذریعے ٹھیکے دیے جاتے ہیں اور ایس ڈی او کا دفتر اپنی اوورسیئر ٹیم کے ساتھ ان ٹھیکوں کی نگرانی اور معائنہ کرتا ہے۔
میرے پاس تقریباً 12 پرائمری اسکول بھی تھے جو سیلاب کی وجہ سے بہہ گئے تھے اور یہ یو ایس ایڈ پروگرام کے تحت تعمیر کیے جا رہے تھے۔ یہ 12 اسکول ضلع کے دور دراز علاقوں میں تھے۔ اس طرح حقیقت میں ایک ناتجربہ کار ایس ڈی او کے پاس بہت زیادہ ذمہ داریاں اور پریشانیاں تھیں۔ میری سہولیات میں ایک 8 کنال پرانا بنگلہ شامل تھا جس میں کئی کمرے اور سامنے اور پیچھے بڑے بڑے لان تھے۔ سوچیں کہ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ میں اس کی دیکھ بھال کیسے کروں گا؟ تاہم سب کچھ ہو جاتا ہے، بس آپ کو اپنے اوورسیئر کو بتانا ہوتا ہے۔ ایس ڈی او کو کام کے معیار کا معائنہ کرنے کے لیے دورے کرنے ہوتے ہیں۔ صرف ایک ایسے منصوبے کا معائنہ کرکے پرانی جیپ میں واپس آنے میں پورا دن لگ جاتا تھا، خوش قسمتی سے میرے زیادہ تر بڑے تعمیراتی منصوبے دور دراز علاقوں میں نہیں تھے جیسے پرائمری اسکول۔
اہم منصوبوں میں سہوہ میں ایک دیہی صحت مرکز، ڈینہ میں ایک پولٹری فارم اور گرلز ہائی اسکول، اور میرے دفتر کے قریب ایک مرکزی جیل کی تعمیر شامل تھی۔ ضلع کی تمام عمارتیں جیسے کالج، اسکول، ہسپتال وغیرہ جنہیں مرمت کی ضرورت ہوتی تھی، انہیں بلڈنگز ڈویژن کے ایکس ایں اور بنیادی طور پر ایس ڈی او کو اچھی حالت میں رکھنا تھا، کیونکہ ان عمارتوں کے سربراہان کی تمام شکایات ایکس ایں میرے پاس بھیج دیتے تھے۔ رپورٹنگ کے نظام میں مجھے اپنے افسر کو تحریری یا زبانی رپورٹ دینی ہوتی تھی۔ میں بھول گیا کہ میں نے اُس ایس ڈی او سے چارج لیا تھا جو 40 ñسال سے زیادہ سروس کے بعد ریٹائر ہو رہا تھا۔ اسے اپنے معاملات سنبھالنے اور اس بڑے شاندار گھر کو خالی کرنے میں کافی وقت لگا۔ میں نے ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا جو بہت اچھی طرح سے برقرار تھا کیونکہ اعلیٰ افسران جیسے ایس ای، سی ای اور سیکرٹری اپنے سفر کے دوران وہاں رکتے اور چند گھنٹے آرام کرتے تھے۔ اس ریسٹ ہاؤس کی تاریخی اہمیت تھی کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو وہاں آئے اور چند گھنٹے آرام کیا تھا۔ نتیجتاً، ان کے دورے سے پہلے ریسٹ ہاؤس کو بڑے اپگریڈ کے لیے خصوصی فنڈز ملے تھے۔
میرا جیپ ڈرائیور ایک بوڑھا، چالاک اور لالچی شخص تھا۔ جب بھی میں کسی ٹھیکیدار کے کام کا معائنہ کرنے جانا چاہتا، وہ کہتا کہ جیپ خراب ہے۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ وہ ٹھیکیدار کے ساتھ ملی بھگت رکھتا تھا۔ کبھی کبھار مجھے اپنے اوورسیئر کی ویسپا سکوٹر پر جانا پڑتا یا شاذو نادر ہی میں ایکس ایں کی گاڑی مستعار لے کر معائنے کے لیے جاتا تھا۔
باقی آئندہ

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *