ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا ذمے دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی وعدہ خلافی اور مجرمانہ اقدامات موجودہ صورتِ حال کی بنیادی وجہ ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کرغزستان میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران کہی ہے۔
عباس عراقچی نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی مذمت پر روس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سنجیدہ ہے، تاہم وہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو ایران کی قومی سلامتی کے خلاف دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔
دوسری جانب روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خطے میں امن و استحکام کے لیے روس کے تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو ایسے علاقائی سیکیورٹی نظام کے قیام میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جو خطے کے ممالک کی شراکت سے قائم کیا جائے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم اسٹارمر نے ایران جنگ میں امریکا اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسٹارمر پر اچانک نااہلی کے الزامات لگے، دباؤ کے تحت مستعفی ہونا پڑا۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ نئے برطانوی وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی فوجی اڈے امریکا کو دیے، سفارتکار ایران سے واپس بلائے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر نے مزید کہا کہ سر کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ اور اس کے فوراً بعد کے اقدامات کیا مشکوک نہیں؟















Post your comments