ٹرمپ نے پاکستان، چین، بھارت سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف نافذ کردیئے

صدر ٹرمپ نے پاکستان  چین، بھارت سمیت 60ممالک پر نئے عالمی ٹیرف نافذ کر دیئے۔ 10 اور 12.5فیصد کے درمیان نئے درآمدی محصولات کا نشانہ بنا نے پر تجارتی شراکت داروں کا شدید احتجاج۔ بھارت، کینیڈا، برطانیہ اور ملائیشیا بھی شامل، نئی ڈیوٹیاں امریکی درآمدات کے 99.4 فیصد حصے پر لاگو ہوں گی۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر کے 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے محصولات (ٹیرف) نافذ کر دیے ہیں۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان ممالک نے اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ نئے ٹیرف امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر لاگو ہوں گے، تاہم تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، ہوائی جہاز اور ان کے پرزے، اہم معدنیات، نیز پہلے سے قومی سلامتی کے تحت محصولات کا سامنا کرنے والی اشیا جیسے اسٹیل، ایلومینیم، تانبا اور گاڑیاں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ پاکستان، بھارت، برطانیہ، کینیڈا، ملائیشیا، میکسیکو، بنگلہ دیش اور متعدد دیگر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا، جبکہ چین، ویتنام اور کئی دوسرے ممالک پر 12.5 فیصد شرح مقرر کی گئی۔ یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے نئی شرحیں پہلے سے موجود درآمدی ڈیوٹیوں کے ساتھ ملا کر 10 یا 12.5 فیصد تک محدود رکھی گئی ہیں۔ چین، آسٹریلیا، برازیل، ناروے اور دیگر ممالک نے امریکی اقدام کو یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے مخالفت کی ہے، جبکہ یورپی یونین نے کہا کہ نئی شرحیں دونوں فریقوں کے سابقہ تجارتی معاہدے کے مطابق ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے سابقہ “باہمی ٹیرف” کالعدم قرار دیے جانے کے بعد عالمی سطح پر امریکی ٹیرف نظام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش ہے، تاہم اس کے باوجود امریکا مستقبل میں اضافی ٹیرف بھی عائد کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں ایران کیخلاف بڑے حملوں پر غور کیا گیا۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پراکسیز کی جانب سے درپیش خطرے کے سبب نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو طیارہ بدلنا پڑا تھا۔

خفیہ اہلکاروں نے ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیہ سے روانگی کے موقع پر قطر کے نئے طیارے کی بجائے پرانا ایئر فورس ون استعمال کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میرا خیال ہے ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے، ڈیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم مذاکرات کرسکتے ہیں اور ان سے بات چیت جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی کا رکن ہونا چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے کینیڈا پر بڑا ٹیرف لگانے جارہے ہیں۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پراکسیز کی جانب سے درپیش خطرے کے سبب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکیہ سے روانگی کے وقت اپنا صدارتی طیارہ بدلنا پڑا تھا۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کو ایک ایسے ممکنہ منصوبے کی اطلاع ملی تھی جس کے تحت صدر ٹرمپ کے زیرِ استعمال طیارے کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی تھی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچے تھے تو انہوں نے قطر کی جانب سے دیے کیے گئے نئے بوئنگ 747-8 طیارے میں سفر کیا، تاہم واپسی پر انہیں پرانے ایئر فورس ون میں برطانیہ روانہ کیا گیا۔

ایران کی جانب سے لاحق خطرے کے سبب خفیہ سروس کے اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیہ سے روانگی کے موقع پر قطر کا دیا ہوا نیا ایئر فورس ون استعمال کرنے کی بجائے پرانا ایئر فورس ون استعمال کریں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے اس مشورے پر عمل نے قطر کی جانب سے تحفہ میں دیے گئے طیارے کے سیکیورٹی فیچرز پر سوال کھڑے کر دیے تھے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدرٹرمپ اور ایئر فورس ون دونوں ہی کو خطرات لاحق تھے۔

نیو یارک ٹائمز نے یہ دعویٰ ایسے وقت کیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات کی ہے جس میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ آیا ایران پر حملوں میں شدت لائی جائے یا نہیں۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس نے باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے صدر ٹرمپ کے ان بیانات کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ صدر اور ان کے وفد کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ترکی میں پیش آنے والا یہ سیکیورٹی کا خطرہ ان اطلاعات سے الگ تھا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ممکنہ منصوبے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر کی تھیں۔

واضح رہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی 2020ء میں امریکی کارروائی میں ہلاکت کے بعد سے مختلف مواقع پر ایران سے منسلک گروہوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے حالیہ بریفنگ میں کہا ہے کہ صدر اور دیگر زیرِ حفاظت شخصیات کو درپیش خطرات کی موجودہ سطح 24 سالہ کیریئر میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ مجموعی سیکیورٹی کی صورتِ حال کو انہوں نے غیر معمولی حد تک سنگین قرار دیا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر 7 جولائی کو ترکیہ میں منعقدہ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئے ایئر فورس ون میں گئے تھے جبکہ صدر ٹرمپ نے ترکیہ سے انگلینڈ سفر کے لیے پرانے ایئر فورس ون طیارے کا استعمال کیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آخری لمحات میں طیارہ خفیہ سروس کی سفارش پر بدلا تھا، نئے طیارے میں مخصوص سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *