سخت گیر ایرانی قیادت نے بڑے تصادم کی تیاری شروع کردی

ایران کی سخت گیر قیادت نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر انحصار کرنے کے بجائے بڑے تصادم کی تیاری شروع کر دی‘انٹیلی جنس معلومات اور روکی گئی کمیونیکیشنز سے ظاہر ہوا کہ ایران جنگ کو وسعت دینے اور امریکا و اتحادیوں کی قیمت بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے‘پاسدارانِ انقلاب کو مزید اختیارات دے کر فوجی کنٹرول مضبوط کیا گیا اور تجربہ کار کمانڈرز کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دشمن کی ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالوانے کی اُمید پوری نہ ہو سکی۔

تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایران نے بھرپور طاقت کے ساتھ جنگ لڑی اور اسی قوت کے ساتھ مذاکرات کیے۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جنگ مسلط کرنے والوں کو جلد ہی مذاکرات کے لیے منت سماجت کرنی پڑی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی قوم نے دنیا کی بظاہر سب سے بڑی فوج کا مقابلہ کیا، ایران نے سفارت کاری میں کامیابی حاصل کی اور فاتح بن کر ابھرا۔

ان کا کہنا ہے کہ طاقت سے حاصل کی جانے والی کامیابیاں سفارت کاری کے ذریعے مضبوط ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت کا سب سے بڑا مخالف اسرائیل تھا، مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد میں صہیونی حکومت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت نے امن معاہدہ نہ ہونے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، صہیونی حکومت نے مفاہمتی یادداشت ناکام بنانے کی کوشش کی۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر جانے والے جہاز کو میزائل لگا ہے۔

یو کے ایم ٹی او کے مطابق نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے جہاز کے انجن اور عملے کو نقصان پہنچا ہے، جہاز کے عملے کو عمانی کوسٹ گارڈ مدد فراہم کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے ابتدائی طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں کہ یہ میزائل حملہ کس کی جانب سے کیا گیا۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سست روی کا شکار

شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور سست روی کا شکار ہے۔

گزشتہ روز 6 کمرشل مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ  کوئی ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ٹرمپ آبنائے ہرمز پر نہ ختم ہونے والے بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اپنی سلامتی پر توجہ دیں۔

تہران سے جاری کیے گئے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ٹرمپ اپنی سلامتی یقینی بنانے کے بارے میں سوچیں تاکہ انہیں فرار کے لیے کسی ٹرک میں نہ چُھپنا پڑے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *