جنگ بندی مدت ختم، امریکی صدر کی عمان پر بھی بمباری کی دھمکی، ایران کو ہتھیار ڈالنے کا انتباہ

 تہران اور واشنگٹن کے مابین جنگ بندی مدت ختم ہوگئی‘حوثی جنگجوؤں نے یمنی بندرگاہ المخاپر سعودی جنگی جہازوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایاہے جبکہ یمن کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ الجوف صوبے میں حوثیوں کے خلاف توپ خانے سے حملے کیے گئے ہیں۔حوثیوں نے ریاض کو خبردار کیا ہے کہ وہ کشیدگی بڑھانے سے بازرہےجبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردارکیاہے کہ وہ سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دے جبکہ عمان کو بھی دھمکی دی کہ اگرمسقط آبنائے ہرمزکو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں رکاوٹ بنا تو امریکا اس پر بمباری کریگا‘ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ امریکا کاپاسداران انقلاب کے ساتھ ایک براہ راست خفیہ رابطہ موجود ہے‘ تہران کیخلاف جنگ میں ہتھیاروں کے ذخیرے کا صرف معمولی سا حصہ استعمال کیا ہے‘ایران امریکہ کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جو ان کے خیال میں ضروری ہے‘واشنگٹن تہران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت میں توسیع کا خواہاں نہیں ہے۔ دوسری جانب آئی آر جی سی نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت میں شامل نہیں ہے‘ ہرمزاس وقت کھلے گی جب امریکا اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے گا جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی خلاف ورزیوں نے ایم اویو کی 60 روزہ مدت کو غیر متعلق بنا دیا ہے‘اگر حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدارنے بتایاہے کہ اگر امریکا نے چند ہفتوں کے اندر عبوری امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ کیا تو ایران آبنائے ہرمز اور اس سے آگے کشیدگی میں اضافہ کرے گا اوربحری ناکہ بندی توڑنے کیلئے بروقت اوردرست حملہ کریگا‘سفارت کاری ناکام ہوئی تو دفاع کی بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنائیں گے‘دیرپا امن کیلئے ثالثوں پر انحصار کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہے‘پاسداران کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی واسرائیلی جنگ کے دوران دشمن کے 200 سے زائد طیارے مار گرائے گئےہیں‘ ادھر امریکی بحریہ نے ٹوماہاک کروزمیزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیےریتھیون کمپنی کو 22.9 ارب ڈالر کا ٹھیکہ دے دیاجبکہ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ہرمزکھولنے کی کوششوں اورجنگ بندی برقرار رکھنے کے اقدامات پرتبادلہ خیال کیا۔

 

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *