جھوٹ، ویزہ اور پیٹ کا جہنم از قلم: نجیم شاہ

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، بلکہ ڈر تو اُنکو لگتا ہے جن کی رَگوں میں غیرت کا لہو باقی ہو، یہاں تو بے حسی کی ایسی فصل بیج دی گئی ہے کہ اب شرمندگی بھی ہم سے ہمکلام ہونے سے کتراتی ہے۔ بی بی سی کی حالیہ رپورٹ نے ضمیر کے اس تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے جسکا جنازہ ہم دہائیوں پہلے نکال چکے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ برطانیہ میں سیاسی پناہ کی خاطر پاکستانیوں کی بڑی تعداد خود کو ’’ہم جنس پرست‘‘ ظاہر کر رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو وطنِ عزیز کے چوراہوں پر اخلاقیات کے بھاشن دیتے نہیں تھکتے، مگر لندن کی گلیوں میں ایک نیلے پاسپورٹ کی خاطر اپنی جبلت اور شناخت کا سرِ بازار سودا کر رہے ہیں۔

منافقت کا عالم یہ ہے کہ ہاتھ میں تسبیح ہے، ماتھے پر محراب ہے، لیکن پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے یہ لوگ اپنی ہستی تک بیچنے کو تیار ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو یہاں بیٹھ کر مغرب کو ’’کافرستان‘‘ کہہ کر غلیظ گالیاں دیتا ہے، لیکن اسی ’’کافر ملک‘‘ کی شہریت پانے کے لیے خود کو اُن کے نزدیک بھی سب سے گھناؤنا ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اِس رپورٹ نے اُن ضمیر فروش ایجنٹوں اور پیشہ ور وکلاء کا کچا چٹھا کھول دیا ہے جو چند پاؤنڈز کے عوض ان مردہ ضمیروں کوجھوٹ کا اسکرپٹ رٹاتے ہیں اور انہیں کیمرے کے سامنے گھٹیا اداکاری کرنا سکھاتے ہیں۔

ان نمونوں کو باقاعدہ اسکرپٹ رٹائے جاتے ہیں کہ برطانوی امیگریشن افسر کے سامنے کیا بکواس کرنی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح اپنے ملک کو بدنام کرنا ہے اور یہ جھوٹا مؤقف اختیار کرنا ہے کہ ’’اگر ہم واپس پاکستان گئے تو ہمیں قتل کر دیا جائے گا‘‘۔ ارے جاہلو! تمہارے ملک کو تو تم جیسے دوغلے اور مطلب پرستوں سے خطرہ ہے جو اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے وطنِ عزیز کی ساکھ کا عالمی سطح پر جنازہ  نکال رہے ہیں۔ یہ محض ایک ویزے کی کہانی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا وہ اشتہار ہے جو اب برطانوی ایوانوں تک چسپاں ہو چکا ہے۔

جس عید ملن پارٹی کا ذکر رپورٹ میں ہوا، وہ دراصل بے غیرتی کا عالمی میلہ تھا۔ انڈر کور نمائندوں کو پتہ چلا کہ وہاں موجود 175 ’’پناہ گزینوں‘‘ میں سے ایک بھی اپنے دعوے میں سچا نہیں تھا۔ یہ لوگ وہاں بریانی کی پلیٹوں پر ٹوٹ رہے تھے اور پسِ پردہ پناہ حاصل کرنے کے غلیظ حربے ڈسکس کر رہے تھے۔ یہ قومی المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو ویزے کی ہوس میں اپنا دین، وقار اور جبلت تک نیلام کرنے کو تیار ہے۔ کیا یہی وہ ’’خودی‘‘ تھی جس کا درس اقبالؒ دے کر گئے تھے؟ ہم ایک بیمار معاشرہ ہیں جس کا علاج اب کسی حکیم کے پاس نہیں۔

ہم وہ ’’غیرت مند‘‘ ہیں جو فلموں پر پابندی لگواتے ہیں لیکن لندن کے دفاتر میں جا کر وہ غلیظ کہانیاں سناتے ہیں کہ سننے والا گورا بھی سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوگا۔ ان ’’جھوٹے پناہ گزینوں‘‘ کی وجہ سے اب ان حقیقی مظلوموں کا راستہ بھی بند ہو گیا ہے جو واقعی کسی جبر کا شکار ہیں۔ اب ہر پاکستانی کو وہاں پہلے مجرم اور پھر اِنسان سمجھا جائے گا۔ یہ جو وکالت کے لائسنس بیچنے والی کالی بھیڑیں ہیں، یہ اِس جرم کی برابر شریک ہیں۔ انہوں نے پاکستانیوں کو وہ راستہ دکھایا ہے جو صرف رسوائی کی کھائی میں گرتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں بچتا۔

ذرا تصور کریں کہ جب ایک برطانوی افسر کسی پاکستانی کا کیس سنتا ہوگا، تو وہ دل ہی دل میں کتنا ہنستا ہوگا؟ اسے پتہ ہے کہ یہ اسی ملک کا باشندہ ہے جہاں مذہب کے نام پر جانیں لی جاتی ہیں، مگر یہی شخص آج ویزے کے لیے اسی مذہب کی حدود کو پامال کر رہا ہے۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پن معاشی کنگال پن سے ہزار درجہ زیادہ خطرناک ہے۔ پیسہ تو محنت سے پھر بھی آ جائے گا، لیکن جو ساکھ ہم نے مٹی میں ملا دی، اسے کون بحال کرے گا؟ ہم نے دُنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ پاکستانی اپنے پیٹ کے جہنم کے لیے کسی بھی حد تک، کسی بھی گہرائی تک گر سکتا ہے۔

میں اکثر کہتا ہوں کہ ہمارا اصل المیہ جہالت نہیں بلکہ ’’منظم منافقت‘‘ ہے۔ ان سینکڑوں پاکستانیوں نے صرف اپنی درخواستیں جمع نہیں کرائیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے منہ پر کالک ملی ہے۔ اب جب آپ کسی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ذلیل ہوں گے تو شکوہ مت کیجئے گا، کیونکہ یہ بیج ہم نے خود بوئے ہیں۔ ہم نے خود ثابت کیا ہے کہ ہم ایک ایسی بھیڑ ہیں جن کا کوئی نظریہ ہے نہ اُصول، بس جہاں ہری گھاس اور ویزہ دیکھا وہیں اپنی قومی شناخت چھوڑ کر بھاگ کھڑے۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی، کیونکہ شرم کیلئے غیرت ضروری ہے اور ہم تو غیرت کا جنازہ کب کا پڑھ چکے ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *