اب انہیں رہا کردیں تحریر ظفر محمد خان

ہندو پاک  میں خواتین کی سیاسی کردار کا اغاز تو بہت پہلے ہی ہوتا ہے لیکن پھر بھی جدید دور کے اندر مولانا محمد علی اور مولانا جوہر علی کی والدہ بی اماں کی سیاست سے دلچسپی اور بیٹوں کو تحریک خلافت کے لیے مستعد رکھنے کے سلسلے میں بہت ہی تکریم اور احترام کیا جاتا ہے
تحریک پاکستان میں خواتین کا نام کم سننے میں اتا ہے تاہم قائد اعظم محمد علی جناح  کی بہن محترمہ فاطمہ جناح  نے ان کا ساتھ دے کر اور پاکستان کی سیاست میں بھی ایک بہت بڑا کردار ادا کر کے خواتین کی پاکستان کی سیاست میں موجودگی کو امر بنا دیا
گو کہ محترمہ فاطمہ جناح  سیاست سے کنارہ کش تھیں تاہم ایوب خان کے خلاف اپوزیشن نے ان کو اپنا مشترکہ رہنما بنایا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ  مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان اتحاد کی علامت تھی جن کو اس زمانے کی طاغوتی طاقتوں نے جیتنے نہیں دیا اور اس کا انجام 1971 میں پاکستان ٹوٹنے کی شکل میں سامنے ایا
بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں اپوزیشن میں خواتین کا کوئی بڑا نام سامنے نہیں ایا تا ہم مختلف بڑے رہنماؤں کی بیگمات خواتین کے جلسوں میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتی رہی اور اس کے بعد جب 1977 میں بھٹو صاحب کے دھاندلی زدہ  انتخابات کے خلاف تحریک چلی تو اس میں خواتین نے اجتماعی طور پر بہت بڑا حصہ لیا ۔ خواتین کے بہت بڑے بڑے جلوس نکلے لیکن پھر بھی کوئی خاتون رہنما مرکز میں سامنے نہیں ا سکی سوائے بیگم نسیم ولی خان کے جو ولی خان پہ سیاست کی پابندیاں لگنے کی وجہ سے سامنے ائیں
 ضیاء الحق نے جب پیپلز پارٹی پر دباؤ قائم رکھنے کے لیے نصرت بھٹو کو بے نظیر بھٹو کے ساتھ لاہور کے نیشنل سٹیڈیم میں کرکٹ میچ کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا تو اس کے بعد نصرت بھٹو بھی ایک مزاحمتی تحریک کی علامت بن کے سامنے ابھریں  ۔ بعد کے  انتخابات میں قوم اسمبلی کی ممبر بھی رہیں پیپلز پارٹی کے رہنما رہیں اور بے نظیر نے ان کو ایک طرف کیا اور پارٹی کی قیادت سنبھالی ۔ بے نظیر پاکستان کی وزیراعظم بنیں  اور عالم اسلام کی پہلی وزیراعظم بنیں  اور اس طرح انہوں نے پاکستان کو یہ اعزاز بھی دلوایا کہ پاکستان میں خواتین کی سیاست کس عروج تک جا سکتی ہے ۔ بے نظیر ایک سیاسی رہنما تھیں  ان کی سیاسی فکر پر اور ان کے انداز حکمرانی پر مختلف باتیں کی جا سکتی ہیں خاص طور پر کراچی میں ہونے والے اپریشن کے سلسلے میں ان کے کردار پر جو منفی اثر ایا ہے وہ کبھی صاف نہیں ہو سکتا
اس دوران کراچی میں ایم کیو ایم کی تحریک میں بہت سی خاتون رہنمائیں  سامنے ائی قومی اور صوبای  اسمبلی کی ممبران بھی بنی اور سخت ترین مصائب کے دور میں انہوں نے اپنے بچوں کے جنازے تک اٹھائے حتی کہ نماز جنازہ تک بھی ان کو پڑھانی پڑی اس صورتحال میں کراچی کی مہاجر خواتین کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم یہاں سے بھی کوئی بڑی شخصیت سامنے نہیں ا سکی سوائے نسرین  جلیل کے جو سینٹر بھی رہیں  اور بارہا ایم کیو ایم کی مرکز میں خواتین کی نمائندگی کرتی رہیں اور اب بھی ایم کیو ایم کے میڈ ان چائنہ ٹولے کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں
مسلم لیگ نواز میں طویل عرصے سے خواتین کی کمی محسوس کی جا رہی تھی تہمینہ دولتانہ کے علاوہ کوئی بڑا نام سامنے نہیں اتا تھا کبھی کبھار ڈاکٹر عابدہ حسن یا پیپلز پارٹی سے ملیحہ لودی جیسے بڑے نام اتے تھے سامنے لیکن ان کے  پیچھے جاگیردارانہ یا سفیرانہ بیک گراؤنڈ ہوا کرتا تھا
تحریک انصاف کو مقبول کرنے کے لیے اس کو لانے والوں نے بہت سارے گر  استعمال کیے اس میں سے ایک گر خواتین کو سامنے لانے کا تھا جس کا اغاز فوزیہ قصوری سے ہوا تھا اس کے بعد بہت ساری خواتین اداکارآئیں  خواتین مفکرین خواتین ایجوکیشنسٹ میں تحریک انصاف کو مقبول کروانے کے لیے ان کی خواتین کو سامنے لایا گیا ۔ خاص طور پر شو بزنس کی خواتین کو تحریک انصاف کی نمائندگی کے لیے سامنے لایا گیا اور ظاہر ہے بھڑکدار لباس میک اپ زدہ چہرے اور ایک پراثر شخصیت کسی بھی پارٹی کے لیے اکثیر  کا حکم رکھتی ہے اس لیے پی ٹی ائی نے خواتین کی ایک بڑی تعداد کو فعال کیا اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا
لاہور میں ڈاکٹر یاسمین راشد اس کی ایک اچھی مثال ہے جنہوں نے لاہور کے قومی اسمبلی کے ایک مخصوص حلقے میں ہمیشہ کام کیا ہارتی رہیں لیکن اس کے باوجود لوگوں میں مقبول رہیں اور شاید 2018 کے متنازعہ الیکشن میں بھی ان کو جتوایا گیا لیکن وہ تحریک انصاف کی ان خواتین میں سے ہیں جن کو احترام حاصل ہے میرا خود ان سے ملاقات کا تجربہ رہا ہے جب 2022 میں عمران خان کو گولی لگی تھی اور ان کو تیزی سے شوکت خانم لایا گیا تھا تو میں وزیر اباد سے ساتھ ساتھ ہی لاہور ایا تھا اور اس وقت لاہور میں ان سے میری ملاقات ہوئی تھی ۔ مجھے وہ ایک گراس روٹ کی سیاسی شخصیت لگی تھیں بڑے پیار سے بات کی تھی ہاں یہ اور بات ہے کہ بہت ہوشیار تھیں کیونکہ انہوں نے فون وغیرہ سب پہلے ہی باہر رکھوا لیے تھے جو عام طور پر سیاسی ملاقاتوں میں ہوتا تو نہیں
تحریک انصاف نے اس کے علاوہ شاہانہ گلزار زرتاج گل نادیہ خٹک ، عالیہ حمزہ ،  صنم جاوید جیسی بہت سی خواتین کو اگے رکھا ہے پنجاب  کی صدر بھی عالیہ حمزہ  کو بنایا اور اسی وجہ سے تحریک انصاف کی یہ خواتین پرجوش تھیں اور انہوں نے نو مئی کو ہونے والے احتجاجی تحریک میں بہت نمایاں حصہ لیا دن بھر جو فٹیج  ٹی وی پر چلتی رہی اس میں اوپر نام لیے گئی خواتین میں سے بہت ساری ٹی وی کی سکرین پر جلوہ گر رہی کوئی فوج پر چوڑیاں پھینک رہا تھا کوئی لوگوں کو کور کمانڈر ہاؤس پہ حملے کی دعوت دے رہی تھی تو اس طرح نو مئی کے بعد جب گرفتاری ہوئیں اور حکومت  نے کریک ٹریک ڈاؤن کیا تو اس میں خواتین بھی متاثر ہوئیں اور بڑی تعداد میں گرفتار ہوئی ۔
اور پھر عمران خان کی زوجہ محترمہ کا ذکر بے حد ضروری ہے جو بظاہر غیر سیاسی تھیں لیکن وہ عمران خان کے دور حکومت میں عمران خان کی بہترین فرنٹ وومن بنی ہوئی تھی اور تمام بڑے کام وہی کر رہی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان پہ جتنے الزامات لگے ان میں کہیں نہ کہیں ان کے اثر نظر اتے تھے اور ان کی سہیلی گوگی صاحبہ بھی تمام پنجاب کے تبادلوں میں ٹرانسفرز میں سامنے اتی رہیں تو یہ بھی ایک طرح کی مضبوط سیاسی شخصیات بن گئیں
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کی اکثر خواتین یا تو جیل میں ہیں یا صوبہ ” کے پی کے” میں پناہ لیے ہوئے ہیں ۔ سابقہ خاتون اول جیل میں ہیں اور ان کی طبیعت بھی خراب بتائی جاتی ہے ان کا اپریشن بھی کچھ ہوا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ بنی گالہ میں رکھی گئی تھیں لیکن وہاں سے انہوں نے جیل میں شفٹ ہونے کو بہتر سمجھا تھا اور باقاعدہ ایک عدالتی پٹیشن کے ذریعے انہوں نے اپنے اپ کو جیل میں منتقل کروایا جو بہرحال ان ایک بہت ہی شاندار عمل ہے
اب تحریک انصاف کی بعض خواتین جن کو جیلوں میں تین سال سے زائد ہونے والا ہے میرا خیال ہے حکومت پاکستان کو اس کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ خواتین اور مرد میں سزا کے معاملے میں کوئی رعایت ہرگز نہیں ہے دونوں اس معاملے میں برابر ہیں لیکن پھر بھی خواتین کی جبلی ضروریات ان کی بناوٹ اور معاشرے کو ان کی ضرورت ان کے بچوں کو ان کی ضرورت ان کے گھر کو ان کی ضرورت کے تحت ہمیں کچھ نہ کچھ رعایتیں ضرور رکھنی چاہیے
میں اس وقت باقی خواتین رہنماؤں کے بارے میں بات نہیں کروں گا کیونکہ ان میں سے کچھ کو رہا کیا گیا ہے کچھ ضمانت پہ رہا ہوئیں  لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے اطوار  نہیں بدلے اور اپنی بظاہر زہریلی زبان نے اختیار رکھی ، پنجاب کی وزیراعلی کے بارے میں ایسی باتیں کی جو ان کو نہیں کرنی چاہیے تھیں اخلاقی طور پر گراوٹ امیز باتیں تھیں تو لہذا ان کو بعض دوبارہ گرفتار ہوئیں لیکن میں اس وقت جو بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ  ڈاکٹر یاسمین راشد کے لیے ہے
ڈاکٹر یاسمین راشد یقینا ایک پی ٹی ائی کی مضبوط ترین رہنما ہوں گی وہ کسی ڈیل پر تیار نہیں ہوں گی کوئی کاغذ لکھ کے دینے پہ تیار نہیں ہوں گی وہ یقینا یہ کہہ رہی ہوں گی کہ مجھے رہا نہ کیا جائے اگر کیا جائے گا تو بھی میں پی ٹی ائی کے ساتھ نہیں چھوڑوں گی یہ سب باتیں ضرور ہوں گی لیکن یاسمین راشد کا سیاسی قد  پی ٹی ائی کی باقی خواتین سے زیادہ بڑا ہے اپ شیری مزاری کو ہی لے لیں ایک دھجکا بھی برداشت نہیں کر سکیں ۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے لیے رہائی کا مطلب ہو سکتا ہے تحریک انصاف کے لیے تقویت کا باعث ہو لیکن حکومت کو یا اسٹیبلشمنٹ کو اس معاملے کو اتنا پیچیدہ نہیں بنانا چاہیے ڈاکٹر یاسمین راشد کو ان کی عمر کے حوالے سے اور ان کی صحت کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح رعایت ضرور دینی چاہیے اور اب یہ ایک حد ہو گئی ہے اتنی دیر نہ کی جائے کسی خاتون کو رہا کرنے میں کہ عوام کا وہ طبقہ بھی جو پی ٹی ائی کو مجرم سمجھتا ہے پی ٹی ائی کی خواتین کو بھی کلٹ سمجھتا ہے وہ ان کے بارے میں ہمدردانہ جذبات قائم کرنے لگے ۔
ہمیں سابقہ خاتون اول بشری بی بی کے حوالے سے بھی تشویش ہے کہ وہ بہرحال جو بھی انہوں نے جرم کیے ہیں لیکن وہ بھی ایک رعایت اور ایک عزت کی مستحق ہیں ان کے ساتھ بھی سزاؤں پر اس طرح عمل نہ کیا جائے کہ ایسا لگے کہ جیسے ظلم ہو رہا ہے ان کو بھی ایک بہتر ماحول بہتر سیل بہتر ملازم مہیا کیے جا سکتے ہیں ان کی تکلیفوں پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے نہ کہ اج کل جس طرح کی تفصیلات باہر ا رہی ہیں کہ ان کا کمرہ بہت چھوٹا ہے وہاں پر بارش کا پانی اتا ہے وغیرہ وغیرہ میرا خیال ہے کہ بشرا بی بی کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہونا چاہیے جیسا عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہے ان کو بھی وہی کھانے مہیا کیے جانے چاہیے جو عمران خان کو کیے جا رہے ہیں ان کے لیے بھی اتنا بڑا سیل اور اتنے نوکر چاکر ہونے چاہیے جو عمران خان کو مہیا کیے گئے ہیں
لیکن ڈاکٹر یاسمین راشد کو کسی نہ کسی حوالے سے کسی بھی عدالتی ذریعے سے رہا کرنا چاہیے وہ اس کی مستحق ہیں چاہے اس کے بعد وہ سیاسی طور پر اپنی بیان بازی جاری رکھیں چاہے وہ عمران خان کا سپورٹ کرتی رہیں چاہے وہ جلوس جلسے میں جاتی رہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ان کے بارے میں اب ہمیں تھوڑا سا سنجیدہ ہونا پڑے گا ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہمیں عزت کے ساتھ رہا کرنا چاہیے اور اس کے لیے قانونی تاویلات پر ضرور عمل ہونا چاہیے ۔
پنجاب کی وزیراعلی اس وقت ایک خاتون ہی ہے اور یہ بھی ایک بڑی اہم بات ہے کہ نواز لیگ نے اپنی ایک خاتون کو چاہے وہ کسی کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو انہوں نے وزیراعلی بنایا ہے تو مریم نواز شریف کو بھی ذرا دل بڑا کرنا چاہیے اور جتنی بھی جیلوں میں خاتون سیاسی قیدی ہیں ان کے کیسز کو دیکھنا چاہیے جن جن کو اسانی سے رہا کیا جا سکتا ہے رہا کیا جانا چاہیے اور اس طرح وہ اپنی خواتین دوستی کا بھی ثبوت دیں گی جس کی ضرورت ہے
یاد رکھیں چند خواتین کو رہا کرنے سے پاکستان تحریک انصاف کو کوئی پرانی مقبولیت دوبارہ حاصل نہیں ہو جائے گی وہ جس جگہ پہ کھڑی ہے اس جگہ سے اہستہ اہستہ دھسی رہی ہے لیکن انسانی معاشرے کی عزت اور ابرو کی بحالی کے لیے اور خواتین کے ساتھ اسلامی سلوک کے لیے بھی ہمیں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی ائی کی چند ان خواتین کو ضرور رہا کر دینا چاہیے جو گھنے گھناونے جرائم میں ملوث نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری  بات

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *