بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی

ایران، روس اور چین کی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے ایران کیخلاف قرارداد منظور کرلی۔

امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے سامنے ایران کیخلاف پیش قرارداد کے حق میں 23 اور مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 8 اراکین غیر حاضر رہے۔

قرارداد میں آئی اے ای اے کے سربراہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف نئی اور پرانی قراردادیں اور اپنی تازہ رپورٹ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھیجے۔

تاہم ایران، روس اور چین نے تہران پر پابندیوں کی بحالی سے متعلق اس مسودے کو کالعدم اور باطل قرار دیا۔

مشترکہ بیان میں ایران، روس اور چین نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے پیش قرارداد کے مسودے میں ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کمزور کرنا ہے۔

ایران کیخلاف پابندیوں کی بحالی کےمطالبے سےمتعلق مغربی قرارداد کا یہ مسودہ قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔  تینوں ممالک نے آئی اے ای اے کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قرارداد کی حمایت نہ کریں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران کا معاملہ سیاسی بنیادوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکا نے حملہ ہی اس لیے کیا تھا تاکہ توثیق کا عمل متاثر ہو اور اسے بنیاد بنا کر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرزکے سامنے ایران کیخلاف قرارداد پیش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جسے عدم تعمیل سمجھا جائے۔

اقوام متحدہ کی ایٹمی توانائی ایجنسی نے پچھلے بیس برسوں میں پہلی مرتبہ سلامتی کونسل سے ایران کی شکایت لگا دی۔

ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا کہ ایران اپنے ملک میں یورینیم باقیات کے معائنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

مغربی اہل کاروں کا خیال ہے کہ یورینیم باقیات سے یہ شواہد مل سکتے ہیں کہ ایران نے دو ہزار تین تک ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام جاری رکھا ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق آئی اے ای اے کی شکایت کے بعد ایران پر مزید پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *