ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو مجھے سپریم لیڈر کو ٹیلی فون کرنا پڑتا، ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو انہیں سپریم لیڈر کو ٹیلی فون کرکے کہنا پڑتا کہ میرے سپریم لیڈر آپ کیسے ہیں جناب؟ ہم آپ کی خدمت میں کیا کرسکتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایران پر بمباری کی جاتی۔

ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ بہت سادہ سی بات ہے، امریکا کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دے سکتا۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران اب مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ نہیں رہا۔

ڈیووس میں خطاب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا  تھا کہ اگر ہم نے ایران کو تباہ نہ کیا ہوتا تو وہ 2 ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس ایران جنگ کی حکمت عملی اور کامیابی کے امکانات پر انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں امریکی فوجی کمانڈروں سے رابطہ کرکے ایران جنگ پر بے لاگ جائزہ مانگا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عوامی سطح پر پیش مؤقف کے برعکس جنگ کا ہوشربا جائزہ سامنے آیا۔

کمانڈروں نے بتایا کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا ذخائر کم ہونا ان کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث تھا۔

کمانڈروں کے مطابق ایک موقع پر ان کی تعداد سو سے بھی کم رہ گئی تھی۔ اہم میزائل نظام کی فراہمی میں بھی تاریخی کمی تھی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *