اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ امریکا ایران جنگ بندی سے متعلق حتمی مسودے پر بات چیت جاری ہے۔ ابھی اتفاق نہیں ہوا، کوششیں جاری ہیں۔
روسی خبر ایجنسی کے مطابق امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ مسودے اور گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ جنگ بندی کے مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا۔
قبل ازیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ نہ محاذ چھوڑا اور نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ہے۔
ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری ترجیح ایران کی سلامتی اور اپنے لوگوں کا امن ہے۔شہباز شریف
سفارت کاری اور دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطی میں حالیہ تشدد کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ایسے وقت میں جب ایک منصفانہ اور پائیدار حل کا مقصد قریب دکھائی دے رہا ہے ہم تمام فریقوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک موقع دیں‘ہمیں تشدد اور تباہی کی بجائے امن اور سفارتکاری کی اس راہ پر قائم رہنا ہوگا جس کی کامیابی کے امکانات روشن اور حوصلہ افزا ہیں۔ پیر کوشہباز شریف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ مشرقِ وسطی میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ایک کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کتنے سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ ہم اپنے برادر ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازعہ کے پرامن سفارتی حل کے لئے خلوصِ نیت اور انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر جوزف نے کہا کہ عسکری حل اسرائیل کے لوگوں کو کبھی تحفظ اور سلامتی نہیں دے سکتا، ہم بات چیت کیلئے تیار اور پُرعزم ہیں، اگر اسرائیلی بھی تیار ہیں تو آئیں بیٹھیں اور بات کریں۔
لبنانی صدر نے خبردار کیا کہ فوجی حل آپ کو کبھی بھی سلامتی اور تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔
لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ عدم جارحیت کا ہوگا، مکمل امن معاہدہ نہیں۔
انہوں صدر جوزف نے کہا کہ ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی حالت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا اور یہ معاہدہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب راستہ بن سکتا ہے۔
عون کے مطابق لبنان 2002 کی عرب امن پہل کے مطابق پیش رفت کرے گا، جس کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلا کے بدلے عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ لبنانی حکومت، امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہی ہے تاکہ مکمل جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔















Post your comments