صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایک پروقار تقریب کے دوران معرکہ حق کی یاد میں اسلام آباد میں تعمیر یادگارِ فتح کا افتتاح کردیا۔ تقریب کے موقع پر قومی جذبے، حب الوطنی اور دفاع وطن کے عزم کا مظاہرہ کیا گیا۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد یادگارِ فتح کی تعمیر سے متعلق کہانی کی ویڈیو نشر کی گئی۔
بعدازاں تقریب کے مہمان خصوص صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے یادگارِ فتح کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔
پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی: صدر مملکت آصف زرداری
اپنے خطاب میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی۔ یادرگار فتح معرکہ حق میں کامیابی، شہدا اور غازیوں کی لازوال داستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن عمل میں دنیا کے ساتھ ہیں۔ امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی دنیا معترف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے والد نے بھی کشمیر کے جہاد میں حصہ لیا، کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔
صدر مملکت نے کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی میں فیلڈ مارشل، نائب وزیراعظم اور وزیرداخلہ نے اہم کردار ادا کیا۔ عالمی برادری کے ساتھ مل کر دنیا کے امن اور خوشحالی کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے فلسطین اور غزہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں نسل کشی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ گریٹر اسرائیل کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے: وزیراعظم
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ ہم جنگ نہیں امن چاہتے ہیں، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں استحکام کی علامت بن چکاہے۔ چاہتے ہیں دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترکیے بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کی علامت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کےلیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے لیے ہمارا موقف دو ٹوک ہے، قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کو مشورہ ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے روکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بروقت جنگ بندی کروائی۔ امید ہے مستقبل میں امریکا کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پاک بھارت جنگ بندی سے لاکھوں جانیں بچائیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرے۔ پاکستان کے ہم سب وارث ہیں، اختلافات دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے چاہیے۔
یادگارِ فتح پر پرچم کشائی
صدر مملکت آصف علی زرداری کے خطاب کے بعد 14 اگست رات 12 بجے یادگار فتح کے مقام پر پاکستان کے 220 فٹ بلند پرچم کی پرچم کشائی کی گئی، جسے سول و عسکری قیادت نے بلند کیا۔

صدر مملکت کو یادگارِ فتح کی یادگار پیش
اس کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری کو یادگارِ فتح کی یادگار کا تحفہ پیش کیا۔
چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان و کشمیر کی پولیس کے دستے بھی موجود
تقریب میں مسلح افواج کے ساتھ سول آرمڈ فورسز، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دستے بھی شریک ہوئے۔
علاوہ ازیں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی پولیس کے دستے بھی تقریب میں شریک تھی۔
صدر مملکت کی تقریب میں آمد
مہمان خصوصی صدر مملکت آصف علی زرداری تقریب میں پہنچے تو وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔
تقریب میں چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا، سروسز چیفس اور غیرملکی سفارت کار بھی شریک ہیں۔
اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز اور وزیراعلیٰ پنجاب تقریب میں شریک ہیں۔














Post your comments