آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، امن مذاکرات ایک بار پھر خطرے میں

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے پر اختلافات بڑھ گئے ہیں اور دونوں جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد وسیع تر جنگ بندی اور امن معاہدے کے امکانات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

عرب میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات پر مالی معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے خاص طور پر یمن میں اکتوبر 2000ء کے امریکی بحری جہاز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 17 امریکی فوجیوں کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے حالانکہ اس حملے کی ذمے داری ایران پر نہیں بلکہ القاعدہ پر عائد کی گئی تھی۔

عرب میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران سے لبنان، شام، یمن اور غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات کی ذمے داری قبول کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، صدر ٹرمپ نے ایران میں جنوری کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں کے لیے بھی معاوضے کی بات کی ہے۔

اس کے برعکس ایرانی مطالبات امریکا سے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ اور اقتصادی پابندیاں ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 6 شرائط پیش کی ہیں۔

ان شرائط میں ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں اور توہین آمیز بیانات کا خاتمہ، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لبنان، فلسطین، یمن اور عراق میں حملوں کا مستقل خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے گرد موجود امریکی بحری و فضائی افواج کا انخلاء، حالیہ جنگ اور جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ، ایران پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثے بلاشرط بحال کرنا شامل ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی بحری آمدورفت کے انتظام اور نئے بحری راستوں کے تعین پر مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں، تہران کے مطابق امریکا سے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم عمان جیسے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سے قبل ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ معاہدہ امریکی عوام کے لیے بہتر ہوگا۔

ان کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا گزرگاہ فیس عائد نہ کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا تاہم ٹرمپ کے معاوضے کے مطالبات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پیر کو 5 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں اور منگل کو بھی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی آبنائے ہرمز کے مستقبل اور مذاکرات کی ناکامی کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق آبنائے ہرمز کا تنازع حل ہونے تک وسیع تر امریکا ایران امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونا مشکل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اس وقت زیادہ سے زیادہ مطالبات پیش کر رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے نئے مطالبات خاص طور پر حساس ہیں کیونکہ اگر ماضی کے واقعات کا معاوضہ باقاعدہ امریکی شرط بن گیا تو تہران کے لیے معاہدہ قبول کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

ایران بھی جنگ کے دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانت، اقتصادی ریلیف اور مستقبل کے لیے واضح تحفظات چاہتا ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ گزشتہ مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے 3 مرتبہ ایران پر حملوں کے باعث اس کا امریکی مذاکرات کاروں پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

تہران کے سیاسی تجزیہ کار حسین رویوران کے مطابق اب بنیادی کشمکش آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی بحری ناکہ بندی کے درمیان ہے، اصل سوال یہ ہے کہ دباؤ کے باعث پہلے کون پیچھے ہٹتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث جنگ کے خلاف دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ ایران میں جنگ کو دفاعی اقدام قرار دے کر اس کے جاری رہنے کے لیے عوامی جواز پیش کیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایک بحری گزرگاہ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ امریکا ایران تنازع کے مستقبل، عالمی توانائی کی قیمتوں اور ممکنہ امن معاہدے کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔

ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکا کو ثالثوں کے ذریعے امریکی انتظامیہ تک پہنچائی گئی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔

محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن کو جنگ ختم کرنا ہوگی، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف امریکا کی غیر قانونی جنگ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔

دوسری جانب مشیر ایرانی سپریم لیڈر محمد مخبر نے کہا ہے کہ ایران کی شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔

پاسداران انقلاب ایران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ رمضان میں ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اب ایک بھی امریکی بحری جہاز خلیج فارس میں موجود نہیں۔تاہم پاسداران انقلاب نے ایران کی ناکہ بندی کرنیوالے امریکی بحری جہازوں کے بارے میں تفصیلات نہیں دی۔

اپنے بیان میں بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران پر مسلط جنگ کے وقت خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی جہاز تھے جبکہ ماضی میں ہوئی ایران عراق جنگ کے وقت امریکا سو سے زائد جنگی جہاز خلیج فارس لایا تھا تاہم اس وقت خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جہاز نہیں ہے۔

جنرل محبی نے کہا کہ جنگ میں ایران کے ردعمل سے دشمن کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی ہب پر بمباری کی تھی جس کا جواب امریکا، اسرائیل اور اسکے اتحادیوں پر ایسے حملوں سے دیا گیا تھا کہ امریکا کے لیے یہ جنگ اسی قوت سے جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔

ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر ایران کو پھر خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں تمام امریکی اور غیرامریکی توانائی سسٹمز اور انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفراسٹرکچر تباہ کردیا جائے گا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *