پانچ اگست کو کیا ہوگا تحریر ظفر محمد خان

سابق خاتون اول نصرت بھٹو کے حوالے سے ایک تصویر شیئر کی جاتی رہی ہے جس میں قذافی سٹیڈیم لاہور میں لڑائی جھگڑے ہوئے ان کی موجودگی کی وجہ سے اور ان کو کچھ بوتل کے کانچ لگے جس سے ان کا سر پھٹ گیا تھا اس کے بعد سے وہ مادر جمہوریت کہلائیں اور ان کے ساتھ اس وقت بیٹھی ان کی بیٹی وزیراعظم پاکستان بھی بنی ایک نہیں دو بار
کسی بھی حوالے سے صعوبتیں سہنے والے سیاست دانوں کی خاندان سیاست میں اتا ہی ہے کیونکہ اس کے بغیر عوام کسی اور کو قبول نہیں کرتے یہی کچھ اج کل عمران خان کی بہنوں کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا ایا ہے لیکن مسئلہ صرف یہ تھا کہ عمران خان ایک ایسے سیاست دان  تھے جو سوچے سمجھے بغیر بولتے تھے اور ہر وہ بات کہتے تھے جو ان سے کبھی نہیں ہو سکتی تھی ۔ اسی لیے وہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کوستے رہے کہ یہ ان کے خاندان کیا اجارہ داری  ہے ،  کیا پاکستان پہ ان کے خاندان قبضہ کیا ہوا ہے  اور اج جب وہ اڈیالہ جیل میں ایک طویل مدت کی سزا جھیلنے جا رہے ہیں تو کوئی اور نہیں ان کی بہنیں ہی سڑکوں پر موجود ہیں ۔
یہ بالکل الگ بات ہے کہ جب تک اڈیالہ کے دروازے پر عوام کو یا پی ٹی ائی کے کارکنوں کو پکارتی رہیں انہیں دو ڈھائی  سو سے زیادہ کبھی لوگ میسر نہ سکے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دو ڈھائی سو افراد پارٹی کے اپنے پروگراموں سے کہیں زیادہ تھے کیونکہ پی ٹی ائی کی جو اس وقت قیادت ہے جو کہ خود عمران خان کے منتخب کردہ ہے اور انہوں نے اپنے ذہن میں کچھ اندازے لگا رکھے تھے جس کی بنا پر گوہر صاحب جیسے یا اپوزیشن رہنما اچکزئی جیسے لوگ آگے رکھے ، یہ سب انہوں نے سیاسی شاطرانہ چال چلنے کی کوشش کی تھی لیکن کیونکہ عمران خان ہرگز سیاسی دماغ نہیں رکھتے تھے  لہذا ان کی ہر چال ہمیشہ الٹی اور غلط ثابت ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت جو قیادت  پی ٹی ائی کی موجود ہے وہ انتہائی نکمی ناکارہ جو غیر جوشیلی اور عوام میں ذرا سی بھی انسیت رکھنے والی نہیں ہے
اس کے مقابلے میں کیونکہ تینوں خواتین  عمران کی بہنیں ہیں چاہے انہیں بولنا ائے یا نہ ائے چاہے وہ غلط سلط باتیں کریں چاہے وہ مملکت کے خلاف باتیں کریں لیکن جو پی ٹی ائی کے لوگ ہیں اس وقت ان کے پاس ان بہنوں کے علاوہ کوئی ایسا براہ راست رابطہ  نہیں ہے جو عمران سے ملتا ہو
تو اب عمران خان کو کم سے کم جیل میں ایک بات ضرور سمجھ میں ائی ہوگی کہ  کبھی بھی اپنے مخالف رہنماؤں کو صرف اس بات پہ متعون نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی سیاست خاندانی ہے کیونکہ خاندانی سیاست ہماری طرز حکومت و ثقافت  میں ایک اولین درجہ رکھتی ہے اور ماضی میں اگر اپ دیکھیں تو ہمارے  بنو امیہ سے لے کے بنو عباس اور عثمانی اور پھر ہندوستان کے بادشاہ سب نسلی ہی تھے نسل در نسل بادشاہی چلاتے  تھے کیونکہ عوام ان کی اولادوں کے علاوہ کسی کو بادشاہ تسلیم نہیں کرتے تھے
لیکن وہ عمران خان ہی کیا جنہیں کچھ کبھی سمجھ میں ائے وہ غلط فیصلے کرتے رہے ہیں کرتے رہیں گے کیونکہ وہ ایک اسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے خوبصورت” گڈے ” تھے تو گڈے کے ساتھ جس طرح سے برتاؤ کیا جاتا ہے وہی برتاؤ ان کے ساتھ ہوا ان کے ساتھ ایک کلٹ  مسلسل 14 سال کے پروپگنڈے کے بعد اکٹھا کرایا گیا وہ کلٹ اج بھی موجود ہے لیکن سیاسی طور پر ان کے ساتھ کوئی باشعور سیاسی ہجوم نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ وہ جیل میں ہیں اور پورا پاکستان سکون سے چل رہا ہے ۔ سکون سے چل رہا ہے سے میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی موجود  حکومت بیرونی محاز کے علاوہ اندرونی طور پر کوئی بہت زیادہ اچھے کارنامے انجام دے رہی ہے ایسا نہیں ہے لوگوں میں اشتعال موجود ہے لوگ خوش نہیں ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ اگر یہ بھی نہ ہو تو اس کے بعد ایک اتنا بڑا نکمہ پیچھے  موجود ہے جو پاکستان کو اس پوزیشن میں لانے کا پورا پورا ذمہ دار ہے اس لیے لوگ چپ چاپ اس حکومت کی جانب سے کی گئی حماقتوں کو بھی برداشت کر رہے ہیں جیسے کہ پیٹرول کی روزانہ قیمت والا معاملہ اپ کے سامنے ہے
تو اب علیمہ خان نے پانچ اگست کو کسی بہت بڑے احتجاج کے اغاز کا اعلان کیا ہے پہلے تو یہ کہا تھا کہ پانچ اگست کو پتہ نہیں پورا پاکستان جام ہو جائے گا اور بچہ بچہ  اپنے حلقے سے نکل کے باہر ا جائے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بات گھوم پھر کر وہیں پہنچی کہ صوبہ  پختون خواہ میں کوئی جلسہ کیا جائے گا ۔ پختون خوا میں اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت نے عمران خان کی جماعت کو حکومت دی ہوئی ہے اور وہ پوری ایک پلاننگ کے تحت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ ایک طرح کا سیفٹی وال ہے اور تمام پریشر جو ان کے اندر سیاسی طور پر بنتا ہے وہ صوبہ  کے بی کے پی کے میں جا کے اس کو پریشر کوکر کی سیٹی کی طرح  نکال دیا جاتا ہے اور اس طرح پورا پاکستان سیاسی چڑھاؤ سے محفوظ رہتا ہے ابھی بھی یہی ہوا ہے پانچ اگست کو اب ایک جلسہ ہوگا اس جلسے میں کیا اعلان ہوگا جو مجھے یقین ہے کہ اعلان یہی ہوگا کہ ایسے جلسے جاری رہیں گے اگلا جلسہ فلاں فلاں فلاں جگہ پر ہوگا جو کہ ہرگز نہیں ہوگا اور اگلا جلسہ بھی سوات منگورا بحرین یا کلام میں کہیں ہوگا ۔
پاکستان میں کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے بھئی کس سیاسی جماعت کے ساتھ کس دور میں ظلم نہیں ہوا جب وہ اپوزیشن میں ہوتی ہے یا وہ کوئی تحریک چلانا چاہتی ہے 1977 کی قومی اتحادی تحریک کو ایک نصاب کے طور پر ہر سیاسی جماعت کو پڑھنا چاہیے کہ کس طرح سیاسی طور پر مقابلہ کیا جاتا ہے فوج رینجرز سیاسی دشمنوں کا اور گولیوں کا لاٹھیوں کا اور مقابلہ ہمیشہ سیاسی اور تحریکی  طاقتیں ہی  جیتتی ہیں ۔ لیکن پی ٹی ائی کے لیے مقابلہ جیتنا اس لیے مشکل ہے کہ یہ ایک شخص کو بچانے کی تحریک ہے ، ایک شخص کو بچانے کی تحریک پاکستان میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ اس ایک شخص کو اگر پاکستان کے 50 فیصد لوگ پسند بھی کرتے ہوں جو کہ عمران خان کو ہرگز نہیں کرتے تو بھی 50 فیصد لوگ اس کی مخالفت میں موجود ہوتے ہیں ۔ صرف ایسی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جس کی بنیاد کوئی نظریہ ہو جیسے پاکستان قومی اتحاد کی نظام مصطفی کی تحریک تھی تو اصل مقصد کسی شخص کو بچانا کسی شخص کی حکومت لانا نہیں تھا بلکہ نظام مصطفی کی حکومت لانا تھا یہ الگ بات ہے کہ وہ کیسے ناکام ہوئی ۔
تو پی ٹی ائی یا علیمہ خان کو یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے عوام ووٹر اس کے ساتھ اتنے زیادہ نہیں ہیں جتنا وہ تصور کر رہے ہیں اور جس بات کا وہ ایک پروپگینڈا کر کر کے ان کو اپنے اپ میں یقین ہو گیا ہے کہ شاید وہ فارم 47 والا کوئی چکر صحیح تھا ،  وہ بالکل درست نہیں تھا بالکل 35 پنکچر کی طرح ہی تھا ۔ پی ٹی ائی کو پچھلے الیکشن میں  کسی حال سے  مشکل 10، 12 نشستیں  زیادہ سے زیادہ اور ہو سکتی ہیں لیکن اس کے بدلے میں کے پی کے سے ان کی سیٹیں کم کرا لی جاتی تو پھر کیا کر لیتے وہ ،
 تو لہذا ان کو جو حصہ ملا ہے ان کو ان کے حوالے سے زیادہ ہے ان کو پی ٹی ائی کی حکومت کو برقرار رکھنا چاہیے وہاں پر شرنگیزی اور ہڑتال مظاہرے روڈ بند ۔ کے پی کے بند  جیسے نعروں سے بچنا چاہیے جو کہ ہو بھی نہیں سکتا کوئی مائ کا لعل کے پی کے  کے  کے روڈ اورشاہراہیں  بند نہیں کر سکتا لیکن اپ یہ بھی سوچ لیں کے پی کے کراچی نہیں ہے ، کراچی اگر بند ہوتا ہے تو پورے ملکی معیشت کی ریڑہ  کی ہڈی بند ہو جاتی ہے لیکن کے پی کے کے بند ہونے سے کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو ٹیل اینڈ پر ہے،   اگر وہ بند بھی ہو جائے گا تو خود اس کو خسارہ ہوگا
تو پانچ اگست کو کچھ بھی نہیں ہونے والا ایک صاف ستھرا سیاسی ماحول برقرار رہے گا پشاور سے جلسے جلوسوں کی ویڈیو کلپس ائیں گی جس میں دکھایا جائے گا کہ ہزاروں لوگ ہیں لیکن وہ یقینا اتنا ہی لوگوں ہوں گے جتنے ابھی حلیمہ خان مردان گئیں یا منگورا گئیں یا نوشہرہ گئیں تو ان کے ساتھ کتنے لوگ تھے بس اس سے کچھ زیادہ یا اس سے کچھ کم ہوں گے ہاں کے پی کے میں جو پی ٹی ائی کے متوالے ہیں ان کو جوش جذبات نکالنے کا موقع مل جائے گا اور یہی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت چاہتی ہے

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *