فیفا ورلڈ کپ 2026ء تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ بن گیا، کئی ریکارڈز توڑ ڈالے

فیفا ورلڈ کپ 2026ء نے 48 ٹیموں کے نئے فارمیٹ کی بدولت اسٹیڈیم میں شائقین کی حاضری اور ٹی وی ناظرین کے تمام سابقہ ریکارڈز توڑ دیے۔

فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ 2026ء کا ورلڈ کپ توقعات سے کہیں بڑھ کر کامیاب رہا اور ٹی وی ویوورشپ نے گزشتہ تمام ریکارڈز کو کئی گنا پیچھے چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ 16 اضافی ٹیموں کی شمولیت کے باعث یہ تاریخ کا سب سے بڑا ورلڈ کپ تھا، تاہم اس کی کامیابی صرف فارمیٹ کی توسیع تک محدود نہیں رہی بلکہ ایونٹ نے ہر لحاظ سے توقعات سے بڑھ کر نتائج دیے۔

فیفا کے مطابق ورلڈ کپ 2026ء سے حاصل ہونے والی آمدن 7 ارب یورو (تقریباً 8 ارب ڈالر) سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو قطر میں ہونے والے 2022ء ورلڈ کپ کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ ہے۔

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ کے 104 میچز میں مجموعی طور پر تقریباً 68 لاکھ 10 ہزار شائقین نے اسٹیڈیمز کا رخ کیا، جبکہ اس سے قبل 1994ء میں امریکا میں ہوئے ورلڈ کپ میں 35 لاکھ 87 ہزار 538 تماشائیوں کی آمد کا ریکارڈ قائم ہوا تھا۔

اس بار اسٹیڈیمز میں نشستیں اوسطاً 99.7 فیصد بھری رہیں، جبکہ فی میچ اوسط حاضری 65 ہزار 351 شائقین ریکارڈ کی گئی، حالانکہ ٹکٹوں کی بلند قیمتوں پر تنقید بھی سامنے آئی۔

فیفا کا کہنا ہے کہ میزبان ممالک اور دنیا بھر میں ٹی وی ویوورشپ کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، اگرچہ ادارے نے ابھی تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ورلڈ کپ کو دنیا بھر میں تقریباً 6 ارب افراد نے دیکھا۔

اس سے قبل قطر میں 2022ء کے فائنل، جس میں ارجنٹینا نے فرانس کو شکست دی تھی، کو 1.5 ارب افراد نے دیکھا تھا، جو اس وقت تک ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میچ تھا۔

فیفا نے یہ بھی بتایا کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی ورلڈ کپ کو غیرمعمولی پذیرائی ملی اور ایک اندازے کے مطابق راؤنڈ آف 16 کے اختتام تک 5.2 ارب افراد کم از کم ایک مرتبہ اس ٹورنامنٹ سے آن لائن منسلک ہوئے۔

ورلڈ کپ 2026ء کے مجموعی انعامی فنڈ میں بھی 15 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ 871 ملین ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ 2022ء ورلڈ کپ میں یہ رقم 440 ملین ڈالر تھی۔

جیانی انفانٹینو نے انکشاف کیا کہ 2030ء کے ورلڈ کپ کو 64 ٹیموں تک توسیع دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، یہ معاملہ فیفا کونسل کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔

2030ء کا فیفا ورلڈ کپ 3 براعظموں پر پھیلے ہوئے 6 ممالک مشترکہ طور پر منعقد کریں گے۔ اسپین، پرتگال اور مراکش اس کے مرکزی مشترکہ میزبان ہوں گے، جبکہ یوراگوئے، ارجنٹینا اور پیراگوئے ٹورنامنٹ کی 100 ویں سالگرہ کی یاد میں افتتاحی مرحلے کا ایک ایک میچ منعقد کریں گے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *