اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر رات بارہ بجے بدلنے کا انقلابی فیصلہ کر کے قوم پر وہ عظیم الشان احسان کر دیا ہے جس کا بدلہ ہم صدیوں تک ادا نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں ایک طویل عرصے سے یہ شکایت چلی آ رہی تھی کہ قوم سستی، کاہلی اور غیر معقول حد تک سونے کی عادی ہو چکی ہے۔ لوگ رات نو بجے بستروں پر دراز ہو کر صبح تک خراٹے مارتے تھے اور ملک و ملت کی فکر سے یکسر آزاد رہتے تھے۔ لیکن اوگرا کے اس ایک ’’ماسٹر اسٹروک‘‘ نے قوم کو یکلخت بیدار مغز، انتہائی چست اور شب بیدار بنا دیا ہے۔
اب جیسے ہی رات کے بارہ بجنے کے قریب آتے ہیں، پورے ملک میں ایک دلکش سسپنس، تجسس اور سنسنی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ لوگ اپنے تمام تر کام کاج چھوڑ کر موبائل فون ہاتھ میں لئے یوں باقاعدگی سے بیٹھے ہوتے ہیں جیسے چاند رات کو لالٹین لیکر عید کا چاند تلاش کر رہے ہوں۔ ٹھیک بارہ بجتے ہی جیسے ہی سکرین پر نیا ’’پٹرول بم‘‘ نازل ہوتا ہے، انسان کو ایک ایسا اخلاقی اور روحانی جھٹکا لگتا ہے کہ وہ سیدھا مصلّے پر پہنچ کر تہجد کی نیت باندھ لیتا ہے۔ یوں بغیر کسی لمبی چوڑی تبلیغ کے، عوام میں شب بیداری اور نمازِ تہجد ادا کرنیکا ایسا خودکار ذوق پیدا ہو چکا ہے کہ اب راتیں سچی مچی خشوع و خضوع سے گزرتی ہیں۔
اس روزانہ کی شب بیداری نے ہمارے گلی محلوں کا امن و امان کا نظام بھی راتوں رات جدید ترین بنا دیا ہے۔ پہلے جو چور رات کے پچھلے پہر چوری کی نیت سے گھروں کی دیواریں پھلانگتے تھے، اب وہ سیدھے اُلٹے قدموں بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ چور جیسے ہی کسی کے ڈرائنگ روم میں قدم رکھتا ہے، آگے سے صاحبِ خانہ ہاتھ میں موبائل فون پکڑے، پٹرول کی نئی قیمت دیکھ کر غصے میں لال پیلا ہو کر دہائیاں دے رہا ہوتا ہے۔ اب جب پورا محلہ ہی رات بارہ بجے جاگ رہا ہو تو بھلا چوروں کی دال کہاں گلنے والی ہے؟ یوں مفت کی چوکیداری کا ایک شاندار اور پائیدار نظام خود بخود قائم ہو چکا ہے۔
جہاں تک نیند کی مختلف بیماریوں اور طبی مسائل کا تعلق ہے، اس معاملے میں بھی اوگرا کی حکمت عملی معجزانہ ثابت ہوئی ہے۔ جو لوگ سالہا سال سے شدید قسم کے خراٹوں کا شکار تھے اور جن کے گھر والے اُن کی اس آواز سے تنگ تھے، اُن کا علاج اب سیکنڈوں میں ہو جاتا ہے۔ جب انسان کو ہر رات ٹھیک بارہ بجے ایک نئے معاشی دھماکے کا سامنا کرنا پڑے تو اُس کے خراٹوں کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے بلکہ سانس بھی چند لمحوں کے لئے رُک جاتی ہے۔
اس پالیسی نے عوام کو ڈراؤنے خوابوں سے بھی ہمیشہ کیلئے نجات دلا دی ہے۔ ماضی میں لوگ رات کو بھوت پریت، بلاؤں اور آسیب کے ڈراؤنے خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر اُٹھ جاتے تھے، لیکن اب حالات بالکل مختلف ہیں۔ کیونکہ جب انسان کو دِن میں اور جاگتے ہوئے ہی پٹرول کی نئی قیمتوں کا خوفناک منظر دیکھنا پڑے تو خوابوں کے بھوت بھی خوفزدہ ہو کر کہیں دور روپوش ہو جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اب پٹرول کے نئے ریٹ سے بڑا اور خوفناک ڈراؤنا خواب اس دُنیا میں ممکن ہی نہیں رہا۔
اس نظام کا سب سے خوبصورت اور اخلاقی پہلو رات کے ٹھیک بارہ بج کر ایک منٹ پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسے ہی نوٹیفکیشن سکرین پر چمکتا ہے اور نئی قیمت کا پتا چلتا ہے، انسان کے منہ سے بے اختیار چند شدید ترین ’’غیر پارلیمانی الفاظ‘‘ ادا ہوتے ہیں۔ لیکن فوراً ہی گناہ کا شدید احساس غالب آتا ہے اور بندہ جھٹ سے توبہ استغفار کی تسبیح پکڑ لیتا ہے۔ اِس طرح روزانہ کی بنیاد پر گناہ اور ثواب کا ایک متوازن اور شفاف چکر مسلسل چلتا رہتا ہے، جس سے روح کی پاکیزگی برقرار رہتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی یادداشت اور حافظے میں جو حیرت انگیز بہتری آئی ہے، وہ بھی کسی معجزے سے کم نہیں۔ جو لوگ اپنے گھر کا پتہ، چابیاں اور عینک رکھ کر بھول جاتے تھے، اب انہیں پچھلے تیس دنوں کی پٹرولیم قیمتیں اعشاریہ کے اعداد و شمار کے ساتھ زبانی یاد ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اعداد و شمار کا یہ ردوبدل یاد رکھتے رکھتے عوام کا دماغ اتنا تیز ہو چکا ہے کہ وہ آئن سٹائن کو بھی مات دے سکتے ہیں۔ اب کوئی شہری بھُول کر بھی کوئی بات نہیں بھولتا، بشرطیکہ وہ اگلی رات کے ریٹ آنے تک اپنا ذہنی توازن برقرار رکھ پائے۔
الحاصل، اوگرا کے اِس ایک فیصلے نے ملک و قوم کو بغیر کسی اضافی خرچ کے ایک بیدار، باحافظہ، صابر اور ذاکر قوم میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگر ہر شعبے میں اسی طرح کے ’’روح پرور‘‘ فیصلے کئے جائیں تو وہ دِن دُور نہیں جب ہماری قوم عالمی سطح پر اپنی الگ پہچان بنائے گی۔ اب تو بس عوام کی یہی دُعا ہے کہ اوگرا کی یہ داستاں یونہی چلتی رہے، تاکہ ہم روز رات بارہ بجے جاگتے رہیں، توبہ کرتے رہیں اور اپنی یادداشت تیز کرتے رہیں۔















Post your comments