سنیما کا ایک منفرد تجربہ تحریر ظفر محمد خان

کرسٹوفر نولان کی نئی فلم دی اوڈیسیی دنیا بھر میں  ریلیز ہوی ا
اس  کا خصوصی پریس شو  70 ایم ایم کے سکرین پر دیکھنے کا موقع ملا یہ فلم  جمعہ 17 جولائی کو ریلیز ہوی  ہے  ۔ یہ فلم تقریبا ہر فارمیٹ بنائی گئی ہے جس میں آئ مکس  بھی شامل ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس فلم کو سلو لائڈ  پر بھی بنایا گیا ہے یعنی پرانے زمانے کی فلمی سٹائل میں بھی جس کی بڑی بڑی نیگیٹو ٹائپ کی ریلیں بھی ہوں گی ۔ شاید ابھی دنیا میں ایسے سینما باقی ہیں جہاں پر یہ فلم اپنے پرانے کلاسک اسٹائل کے ساتھ ریلیز ہوگی مجھے یقین ہے امریکہ اور کینیڈا میں کچھ سینما تو ایسے ضرور ہوں گے اور ہندوستان میں بھی ایسے سینما ابھی پائے جاتے ہوں گے باقی دنیا میں چین سے بھی امید ہے کہ وہاں بھی شاید ون اسکرین ریل کے ذریعے دکھائے جانے والے سنیما  موجود ہوں گے ۔
اس فلم کا بے حد انتظار کیا جا رہا تھا اور اگلے پورے ہفتے تمام سنیماؤں  میں دنیا بھر میں ایڈوانس بکنگ فل جا رہی  ہیں حتی کہ ائی میکس اور 70 ایم ایم کہ مہنگے سینما میں بھی لوگوں نے 80 فیصد سے زیادہ بکنگ کرا رکھی ہے
فلم ایک دیو مالائی قسم کی کہانی ہے ،  اس کہانی کے اوپر تو میں یہاں تبصرہ نہیں کروں گا لیکن اس فلم میں بچوں سے لے کر بڑوں تک کے لیے  سب کچھ موجود ہے ۔
پیار محبت ماں کی ممتا بھائیوں کی لڑائیاں حق اور انصاف کی جنگ اور فتح ۔ ساتھ میں ایک انکھ والا خوفناک دیو ، کچا کھا جانے والی چڑیل ، جادوگرنی ، خطرناک درندے ، خوفناک سمندری طوفان ، جنگ و جدل تلوار بازی ، تیر اندازی اور بہت کچھ ہے جو پونے تین گھنٹے کی فلم کے دوران  اپ کو سیٹ سے اٹھنے کا موقع کم دے گا
لیکن ایک بات میں نے محسوس کی ایک انکھ کا دیو چڑیل ڈائن جادوئی چیزیں جو اس سے 50 سال پرانی فلموں میں پیش کی جاتی تھیں شاید اس وقت ان کا اثر ہم پر زیادہ ہوتا تھا مجھے ایسا لگا کہ اس فلم کے اندر جو ایک آنکھ کا  دیو اور چڑیل وغیرہ دکھائی گئی ہے وہ پرانی فلموں میں زیادہ بہتر دکھائی جاتی تھی ہو سکتا ہے اس وقت ہم بچے ہوتے ہوں تو ہم پر اس کا زیادہ اثر ہوتا ہو بہرحال ایک بہترین تفریح ہے بچوں کی چھٹیوں کے زمانے میں
اگر پاکستان میں بھی ریلیز ہوئی ہے تو ضرور دیکھیں
سر کرسٹوفر نولن ہدایت کاری کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ انہوں نے فلم میں کہانی کو مختلف اور مشکل انداز میں پیش کرنے اور اسے دیکھنے والوں کیلئے ایک مکمل طور پر نئی دنیا سامنے لانے کیلئے سینما کو نئی شکل دی ہے۔
فلم کے مناظر اور فلم کے اندر کی گئی مناظر کی کاٹ ی (flashbacks) جو کہ نولن کی طاقت ہیں وہاں پر انہوں نے فلم کو یادگار بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگرچہ کسی طرح انہوں نے تمام مناظر کو تیزی کیساتھ مکمل کیا مگر یہ شے بھی انکی خوطصورتی کو بڑھا گئی۔ فلم کی کہانی سے زیادہ اہم اس مکمل منظر کو محسوس کرنا ہے جس میں نولن کامیاب رہے۔ کئی جگہ
Auditory smash cuts
کا خوبصورت استعمال ہوا جنہوں نے فلیش بیک  اور جاری کہانی کا بہترین جوڑ پیش کیا۔
اداکاری کی بات کریں تو اگرچہ سب نے پوری جان ماری مگر کہانی کے اندر یہاں سے نقص شروع ہوئے کیونکہ اسکی زبان کیساتھ تمام جملوں کی ساخت بھی جدید امریکی انداز میں رکھی گئی ۔ مثلا ٹرائے یا گلیڈی ایٹر 1 میں فلموں کی طاقت انکے جملے اور انکی کلاسیکیت تھی مگر یہاں پر زیادہ توجہ مناظر اور فلم کی دیگر جگہوں پر رہی۔ نیز فلم اس طرح سے جذباتی وابستگی نہیں کروا پائی جس طرح سے ایک کلاسک کہانی کا تقاضا تھا ۔ آئیے اسکی وجہ جانتے ہیں۔
ہومر کی لازوال کہانی اوڈیسی کو فلمانا کسی طرح سے بھی آسان کام نہیں تھا۔ ایک تو کہانی طویل ہونے کے باعث فلم کیلیے  بہت زیادہ چیزیں نکالنا پڑیں۔ اس کیساتھ کہانی ایک مکمل کلاسک حیثیت رکھتی ہے جس کو تراجم بھی اس طرح سے مکمل نہیں کر پائے۔ ایسے میں نولن نے کہانی کو مختصر رکھ کر اپنے روایتی انداز میں کہانی کو جلدی جلدی مکمل کرنے کی کوشش کی۔ اس میں کئی تفصیلات اور کئی اہم واقعات کی قربانی دینا پڑی۔ نیز کچھ جگہوں پر فلم کے تقاضے پورے کرنے کیلئے کہانی کو بھی موڑا گیا۔ نیز کہانی کے اندر ایک ایک جملے میں شاعرانہ خوبصورتی ہے مثلا ہر جملہ اپنے اندر جذبات لیے ہوئے ہے۔ اگر کسی بھی شے کا تذکرہ ہے تو اسکی تعریف، اس سے نفرت یا اس کے کردار کی وضاحت موجود ہے مگر نولن نے کہانی کو انتہائی مختصر کرنے کیلئے اس کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے توجہ صرف مناظر یا موسیقی کی طرف دے ڈالی۔
فلم بہرحال تالیوں کی مستحق ہے۔ اگرچہ میں نے اسکا پہلا پہلا شو دیکھ ڈالا مگر اس کی ریٹنگ ظاہر ہے کمپیوٹر پر توجہ سے دیکھ کر دی جاسکتی ہے۔ اگر آپ نے اوڈیسی کو نہیں پڑھا تو شاید آپ ایک بھی خامی نا نکال پائیں۔ اگر اچھے تراجم دیکھے ہیں تب بھی آپ کیلئے یہ بہترین تجربہ رہے گا۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *