ایران نے معاہدے پر مذاکرات میں بہت زیادہ دیر کردی، اب انہیں قیمت چکانا پڑے گی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے معاہدے پر مذاکرات میں بہت زیادہ دیر کردی، اب انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ اس کے بہت سے حصے، جیسے بحریہ اور فضائیہ اب عملاً موجود ہی نہیں رہے۔

ڈوڈنلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل طور پر شکست دی جا چکی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں تحریر کیا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام کچھ نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ کا یہ غنڈہ اب ختم ہو چکا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایسے معاہدے پر مذاکرات کرنے میں بہت زیادہ دیر کردی جو ان کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا تھا، اب انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کردار اور اختیارات پر نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی، سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا قومی سلامتی کے فیصلے اب بھی نیتن یاہو خود کرتے ہیں یا وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے انحصار کا شکار ہو چکے ہیں۔

ترک نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق اس بحث کی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل سے متعلق متعدد جنگ بندی معاہدوں کا اعلان خود کیا۔

ٹرمپ نے 10 اکتوبر 2025ء کو غزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ بعد ازاں ایران اور لبنان سے متعلق جنگ بندی انتظامات کا بھی اعلان کرتے رہے۔

نیتن یاہو کے قریبی وزراء نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم امریکی صدر کے تابع ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت لیکود کے وزیر میکی زوہار نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ تمام فیصلے نیتن یاہو خود کرتے ہیں، اگر وہ ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ اسرائیل کے مفاد میں ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات سے ایسے اہم فوائد حاصل ہوئے ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار بین کاسپیت نے نیتن یاہو کو کمزور قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے دوران نیتن یاہو اپنی سابقہ پُر اعتماد تقاریر کے برعکس کمزور دکھائی دیے۔

کاسپیت کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے سیاسی اور قانونی مسائل، خصوصاً بد عنوانی کے مقدمے میں ٹرمپ کو شامل کر کے خود کو امریکی صدر پر انحصار کرنے والی شخصیت بنا لیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی، لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور سال کے آخر میں متوقع انتخابات نیتن یاہو کو قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، ایسے میں ٹرمپ کا تابع رہنا بھی ان کے لیے فائدہ مند ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران نے کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ بہت اچھی بات چیت ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو پر حملہ ہوا، انہوں نے جواب دیا اور میں اس پر انہیں موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتا، لیکن اب دونوں فریق اپنی کارروائیاں روک چکے ہیں اور ایک ہفتے یا اس کے قریب عرصے کے لیے ایک دوسرے کو تنہا چھوڑ دیں گے۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسے معاہدے کے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی، یہ معاہدہ آئندہ دو سے تین دن میں طے پا سکتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *