یقینا سات جون کی رات پی ٹی ائی کے لیے بہت ہی بھاری رات ہوگی جب اس کو گلگت بلتستان میں ایک افسوسناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے حوالے سے ایک عام پروپگنڈا یہی تھا کہ گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی ائی اسی طرح مقبول ہے جس طرح خیبر پختون خواہ میں ہے حالانکہ ہم کافی عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی ائی کی مقبولیت کا غبارہ کب کا پھٹ چکا ہے ۔ لیکن پی ٹی ائی کو جب پاکستان کے اداروں نے گود لیا تھا اس وقت اس میں ایسے ایڈونچر ڈال دیے تھے کہ اس کے سپورٹر حامی یا اس سے محبت کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے علاوہ دنیا میں یا پاکستان میں کوئی دوسری متبادل چیز موجود ہی نہیں ہے لہذا جو ہم کہیں وہی سچ ہے اور ہم پاکستان کی سب سے مقبول جماعت ہیں ۔ ان کی رائے میں ہر الیکشن میں ان کے خلاف دھاندلی ہوتی ہے اور صرف اس الیکشن نہیں ہوتی جہاں وہ جیت جاتے ہیں ۔ جیسا کہ خیبر پختون خواہ میں یہ پچھلے تین الیکشن جیت چکے ہیں اور 15 سال سے خیبر پختون خواہ میں حکمران ہیں یہ الگ بات ہے کہ خیبر پختون خواہ کی زبوں حالی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ایک انتہائی نااہل قسم کی جماعت ان پر حکمرانی کر رہی ہے اور حکومت پاکستان بھی اس صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم میں برابر کی شریک ہے جو یہاں پر تین الیکشنوں سے جیتنے والی پی ٹی ائی کو برسر اقتدار رہنے میں مدد دیتی ہے ۔
2024 کے انتخابات میں جب جنرل فیض حمید ان کے روح رواں تھے انہوں نے میڈیا کو کس طرح کنٹرول کیا تھا کہ چند جھوٹے نتائج د ٹی وی کے سکرینوں پہ شام پانچ بجے تک چپکا کے رکھ دیے تھے ۔ تاکہ پاکستان کی عوام میں یہ بات واضح ہو جائے کہ پی ٹی ائی کے ازاد امیدوار جیت رہے ہیں یہاں تک کہ میں نے بھی اپنے طور پر اپنے سوشل میڈیا پہ اس بات کا اظہار کیا تھا کہ پی ٹی ائی کو سمجھنے میں ہم سے غلطی ہوئی اور یہ واقعی جیت گئے جبکہ ان کو ہارنا چاہیے تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ ہار ہی رہے تھے ۔ اخر کب تک گنتی پوری نہ ہوتی جب گنتی پوری ہوئی تو ان کی جیت کافی حد تک سمٹ چکی تھی اور حکومت بنانے کی پوزیشن سے یہ باہر ہو چکے تھے ۔ پھر انہوں نے فارم 45 اور فارم 47 والا ڈرامہ رچایا جو ان کو خاص طور پر سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی ہارو کوئی نہ کوئی کہانی گھڑ لو جیسے 35 پنکچر کے اوپر عمران خان ڈھائی سال تک قوم کو بے وقوف بناتا رہا اور جب نجم سیٹھی عدالت میں سزا کے اخری مرحلے تک پہنچا چکا تھا تو اس نے کہہ دیا کہ وہ تو کوئی سیاسی بیان تھا اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی ۔ بالکل اسی طرح فارم 45 کی بھی کہانی کھڑی گئی حالانکہ کسی ایک کیس میں بھی یہ اس کو ثابت نہیں کر سکے اور پنجاب میں یا لاہور میں اپنی مقبولیت کا گانا گانے والے جب مریم نواز کی سیٹ خالی ہوئی جس قومی اسمبلی کی سیٹ کو انہوں نے چھوڑا تو وہاں پر ضمنی الیکشن میں پی ٹی ائی کو عبرت ناک شکست ہوئی ۔ میں خود پچھلے چار سالوں میں پنجاب کا چھپا چپا مختلف مہینوں اور مختلف موسوں میں گھوم چکا ہوں مجھے کہیں بھی پی ٹی ائی کی مقبولیت اتنی ہی نظر اتی ہے جتنی کسی زمانے پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ نواز سے مقابلے میں تھی جب پیپلز پارٹی ہار جایا کرتی ہے
لیکن جھوٹ کے بیانیوں کو جو کہ اداروں نے ہی ان کو سکھایا تھا یہ اتنے اپنے اوپر مسلط کر چکے ہیں اور خود سے دوسروں پر مسلط کرتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ اداروں کی زبانی بول رہے ہیں اداروں کی وہ زبان جو ان کو گود لیے وقت بیان کی جاتی تھی
گلگت بلتستان کے الیکشن کے اعلان کے بعد سے ہی ایک پروپگنڈا شروع کر دیا گیا کہ پی ٹی ائی تو کلین سویپ کرے گی ، پی ٹی ائی کا کوئی ہرا نہیں سکتا پی ٹی ائی کے لوگ سڑکوں پہ نکل جائیں گے وغیرہ وغیرہ لیکن ہوا کیا ہوا یہ کہ جب الیکشن کا موقع ایا تو نہ تو یہ پارٹی انتخابات دوبارہ کرا سکی تاکہ ان کو صحیح نشان ملے گویا انہیں کوئی بہانہ ملے ۔
انتخابی مہم کا مرحلہ ایا تو وہی ڈرامے بازی رہ جائے گی کہ ہمیں انے نہیں دیا جا رہا ہمارے لیڈر کو روکا جا رہا ہے حالانکہ جن لیڈروں کو روکا گیا اس کی وجوہات موجود تھیں اور اس کے علاوہ جم غفیر جس میں ان کے پارٹی چیئرمین گوہر خان بھی شامل تھے بخیریت وہاں پہنچ چکے تھے ان کے ساتھ ساتھ ایک پوری بڑی ٹیم تھی تحریک انصاف کی ، جو جلسوں سے خطاب کر رہی تھی ۔ اور پھر عوام اگر کسی پارٹی کے ساتھ ہوں تو اس کے بڑے رہنما کسی وجہ سے نہ بھی ا سکیں تو ان کے ووٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن پی ٹی ائی نے شور یہ بھی مچایا لیکن کلین سوئپ کرنے کا پروپگنڈا بھی کیا اور اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے ہی کہنا شروع کر دیا کہ ہمارے ساتھ دھاندlib ہوگی دھاندلی ہوگی_ یہ پاکستان کی واحد جماعت ہے جو الیکشن ہونے سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیتی ہے ۔
پاکستان کے تمام سیاسی محققین یہ بات جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان ہو یا کشمیر ہو یہاں کے لوگ عموما اس پارٹی کی کو ہی ووٹ دیتے ہیں جو پاکستان میں اقتدار میں ہو ۔
ان لوگوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اس حالات میں جب کہ پی ٹی ائی اس وقت ملک کی دشمنی کا الزام برداشت کر رہی ہو ایسے اقدامات کر رہی ہو جس سے ہندوستان کی حمایت اور پاکستان کی تباہی میں دلچسپی ظاہر ہو رہی ہو ایسے وقت میں گلگت بلتستان کے لوگ پی ٹی ائی کو ووٹ دیں گے یہ تو سوچنا ہی حماقت تھی ۔
لیکن سوشل میڈیا پہ بیٹھ کر پروپیگنڈے کی جنگ لڑنے والوں کو اتنی عقل اور سوجھ بوجھ کہا انہوں نے ایسا ظاہر کیا کہ پی ٹی ائی تو رات کو نتیجہ انے کے بعد گلگت بلتستان کی سب سے بڑی پارٹی ہوگی لیکن صاف ستھرے انتخابات ہوئے پولنگ اسٹیشنوں پر پی ٹی ائی نے اپنے طور پر پہرے بھی دیے لیکن فارم 45 نے پی ٹی ائی کی قسمت میں ایک عبرت ناک شرمناک اور افسوسناک شرکت ثبت کر دی ۔
اب دھاندلی کا یا شور فارم 47 کا یا 35 پنچروں کا ایک اور سلسلہ ضرور شروع ہوگا لیکن اس مرتبہ اس کو اپنی اپ موت مر جانا ہوگا کیونکہ لوگ یہ سارے پینترے دیکھ چکے ہیں اور سمجھ چکے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہنوں کے ساتھ ایک بڑے گروپ کی شکل میں موجود ہے اور دوسرا گروپ کارکنوں کا ہے جو بیچارے خیبر پختون خواہ سے پنجاب کی طرف اتے ہیں اور پٹ کر واپس چلے جاتے ہیں پنجاب کے علاوہ کراچی میں پی ٹی ائی کے کچھ لوگ پہلے پائے جاتے تھے جو ایم کیو ایم کے اوپر جبر کی وجہ سے گھروں میں بیٹھے تھے سیاست میں کچھ بہتر مقام حاصل کرنے کے لیے پی ٹی ائی جو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ جماعت تھی شامل ہو گئے تھے لیکن جیسے ہی اسٹیبلشمنٹ پی ٹی ائی کے خلاف ہوئی کراچی سے پی ٹی ائی کا جو بھی تھوڑا بہت اثر و رسوخ تھا ختم ہو گیا اور اب پورے پاکستان میں پی ٹی ائی کو پنجاب میں چند فیصد ووٹوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملنے والا ۔
خیبر پختون خوا میں بھی اگر کبھی الیکشن ہوئے جس کی تیاریاں ہو چکی ہیں تو وہاں بھی ان کے ساتھ وہی ہوگا جو گلگت بلتستان میں ہوا
بلاشبہ عمران خان کی تھوڑی بہت مقبولیت ضرور حاصل ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی وجہ سے وہ یکلخت باہر ا جائیں گے ہاں مفاہمت کے ساتھ کوئی کمپرومائز کے ساتھ کچھ سزا میں ممکنہ کمی ہو سکتی ہے یا کسی طریقے سے ان کو ایسی ریلیف دی جا سکتی ہے جیسے ہندوستان میں بابا رام رحیم کو دی گئی ہے جو بہت سارے اغوا ریپ اور فراڈ کے الزام میں عمر قید کاٹ رہا ہے لیکن پے رول پہ رہا ہو ہو کر تھوڑی زندگی کو اسان بناتا رہا ہے شاید عمران خان کی خدمت میں بھی رام رحیم بننا لکھا ہے















Post your comments