اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق ایرانی حملے کا نشانہ وسطی اور جنوبی اسرائیل ہیں۔
اسرائیلی اخبار کا مزید کہنا ہے کہ اس ایرانی حملے سے مغربی کنارے میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق ایران نے اسٹریٹجک اڈے نیواٹم ایئربیس پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ نابلس کے قریب اسرائیلی قبضہ بستی میں ایرانی میزائلوں سے 4 عمارتوں اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا، اسرائیلی افواج کے بھرتی سینٹر کے قریب بھی میزائل گرے، میزائل حملے سے متعدد املاک کو بھاری نقصان ہوا۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی میزائل سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، صرف مالی نقصان ہوا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران سے اسرائیل کی جانب مزید میزائل فائر کیے گئے ہیں، شمالی اسرائیل کے بعد اب ایران نے جنوبی اسرائیل پر بھی حملہ کیا ہے، جنوبی اسرائیل، بحرِ مردار، یہودا اور لاخیش میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے، اسرائیلیوں کو اگلے اعلان تک محفوظ پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اسرائیل میں شہری بم شیلٹرز میں رہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام ایرو اور آئرن ڈوم نے ایرانی میزائل روکنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب اسرائیل کے مرکزی بن گورین ایئر پورٹ پر ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، اسرائیلی حکام کے فضائی آپریشنز کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جنگ بڑھنے پر مسافر طیاروں کو فوری طور پر ملک سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔
بن گورین ایئر پورٹ پر مسافروں کی تعداد 2500 تک محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اسرائیلی ایئرپورٹ پر صرف 2500 افراد موجود رہ سکتے ہیں، اسرائیل ایئر پورٹ کا اسٹاف اور مسافروں کی مجموعی تعداد 2500 تک ہونی چاہیے۔
اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ، ایئر پورٹ اتھارٹی اور ہوم فرنٹ کمانڈ کے ہنگامی اجلاس میں سیکیورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر بن گوریون ایئر پورٹ پر نئی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
ادھر تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ پر تمام پروازیں اگلے نوٹس تک معطل کر دی گئیں۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریف کردیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافی بارک راوڈ سے گفتگو میں کہا کہ ہم ایران کے ساتھ حتمی ڈیل کے بہت قریب ہیں، جو کچھ اب ہورہا ہے میں نہیں چاہتا کہ اسے اڑا دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو جوابی حملہ کرے گا تو یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا جیسے 47 سال سے چل رہا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ میں ابھی نیتن یاہو کو فون کرنے جا رہا ہوں، نیتن یاہو سے کہوں گا کہ جوابی حملہ نہ کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو مشورہ دوں گا، آپ نے اپنے میزائل داغے دیئے بس اتنا کافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میز پر واپس آئے اور معاہدہ کرے، اسرائیل کی جانب سے بیروت پر آج کے حملے پر خوش نہیں ہوں۔
بعدازاں برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حملوں نے امریکا ایران مذاکرات مکمل کرنے کی خواہش کو نہیں بدلا، اگر ڈیل ناکام ہو ئی تو ایران پر کمانڈو آپریشن پر غور کریں گے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ بحری ناکہ بندی اور اسرائیل کی امریکی حمایت نے خطے میں امریکی، اسرائیلی اہداف کو جائز بنا دیا ہے۔
تہران سے جاری اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ہماری مسلح افواج ہمیشہ کی طرح تیار ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نہ تو جنگ بندی کے پابند ہیں اور نہ ہی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنان معاہدوں کی خلاف ورزی اور بحری ناکابندی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔















Post your comments