مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام، چینی صدر کی اماراتی ولی عہد کو 4 نکاتی تجویز پیش

چین کے صدر شی جن پنگ اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے 4 نکاتی تجویز پیش کر دی۔

چینی صدر نے پُرامن بقائے باہمی کے اصول کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطوں کے لیے مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی پائیدار سیکیورٹی نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔

شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے، تمام ممالک کے افراد، تنصیبات اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کو جنگل کے قانون میں واپس جانے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھا جانا چاہیے، ترقی اور سیکیورٹی کو ایک ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔

سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کے محاصرے کا منصوبہ ترک کر دے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔

عرب حکام کے مطابق ریاض کو خدشہ ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو بند کیا گیا تو تہران جوابی کارروائی کرتے ہوئے دیگر اہم بحری راستوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، یہ اقدام خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *