ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب بھی کوئی سفارتی حل میز پر آتا ہے، امریکا ایک لاپرواہ فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے۔
تہران سے جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے سوال کیا کہ کیا یہ ایک بھونڈا دباؤ ڈالنے کا حربہ ہے؟ یا پھر کسی اسپوائلر کا ایک بار پھر امریکی صدر کو نئی دلدل میں پھنسانے کا نتیجہ ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ نے سی آئی اے کی حالیہ رپورٹ سے متعلق کہا کہ سی آئی اے کے اندازے غلط ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ایرانی میزائل ذخیرے اور لانچر صلاحیت 28 فروری کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ درست اعداد و شمار کے مطابق 120 فیصد ہے۔
عباس عراقچی نے کہا جہاں تک اپنے عوام کے دفاع کی بات ہے، ایران کی تیاری ایک ہزار فیصد ہے۔
امریکی وزیر خاجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ہمیں آج ایران کا جواب موصول ہو جانا چاہیے، ابھی تک ہمیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امید ہے کہ ایران سنجیدہ مذاکرات کے عمل کی طرف جائے گا، گزشتہ رات ایران پر کیے گئے حملے آپریشن ایپک فیوری کا حصہ نہیں تھے، اگر امریکا پر میزائل فائر کیے گئے تو ہم جواب دیں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ پوپ لیو کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت رہی، حزب اللّٰہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے، ہماری توجہ صرف لبنانی حکومت پر ہے۔














Post your comments