یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ 2026ء میں اب تک روس کے 83,000 سے زائد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی نقصانات 141,500 سے بڑھ گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق یوکرینی فوجی سربراہ اولیکساندر سیرسکی کا کہنا ہے کہ روسی فوج مسلسل کمزور ہو رہی ہے اور محاذ پر یوکرین نے کئی علاقوں میں برتری حاصل کر لی ہے۔
یوکرینی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ روس روزانہ 1,000 سے زائد فوجیوں کا نقصان اٹھا رہا ہے لیکن نئی بھرتیاں صرف 800 سے 930 یومیہ ہو رہی ہیں جس سے روسی فوجی طاقت میں کمی آ رہی ہے، اسی وجہ سے روس کے 40 علاقوں میں فوج میں شمولیت کے بونس میں 30 سے 100 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس مزید 100,000 فوجی جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے مالدووا کے علاقے ٹرانسنیسٹریا میں روسی زبان بولنے والوں کو شہریت دینے کا عمل آسان بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب یوکرین نے روسی تیل کی تنصیبات اور ریفائنریز پر حملے بھی تیز کر دیے ہیں، عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق ان حملوں کے باعث روس کی تیل کی پیداوار میں اپریل 2026ء کے دوران 460,000 بیرل یومیہ کمی ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کی تقریباً ایک چوتھائی ریفائننگ صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
یوکرین نے ماسکو کے قریب فوجی اور صنعتی اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے جن میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ، آئل پمپنگ اسٹیشن اور ریفائنریز شامل ہیں۔
یوکرینی صدر ولوودومیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ یوکرین روس کے اندر گہرائی تک حملے جاری رکھے گا تاکہ ماسکو پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
عرب میڈیا کے مطابق روس نے بیلاروس کے ساتھ مشترکہ جوہری مشقیں بھی شروع کر دی ہیں جن میں 64,000 فوجی، 200 سے زائد میزائل لانچر، 140 طیارے اور 73 جنگی جہاز شامل ہیں۔
روس نے بیلاروس میں مزید جوہری ہتھیار منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیلاروس نے جنگ میں براہِ راست حصہ لیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔















Post your comments