ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اختتام کے بہت قریب ہے، جبکہ امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی توقع کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ 2 ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران کشیدگی میں کمی کے بعد اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔

ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تقریباً ختم ہو چکی ہے، جی ہاں! میں اسے اختتام کے بہت قریب سمجھتا ہوں۔

امریکی صدر نے کہا کہ تہران بہت شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم ایران سے نکل بھی جائیں تو ایران کو تعمیرِ نو میں 20 سال لگ جائیں گے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ایران امریکا مذاکرات پاکستان میں ہونے کا واضح اشارہ دیا تھا۔

امریکی ٹی وی کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے اگر ایران سے ایک اور میٹنگ طے ہوئی تو اس کی ممکنہ قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

امریکی ٹی وی سی این این نے امکان ظاہر کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کے دوسرے راونڈ میں بھی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔

امریکی ٹی وی کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے اگر ایران سے ایک اور میٹنگ طے ہوئی تو اسکی ممکنہ قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ایران سے بات چیت کا سلسلہ آئندہ دو روز میں بحال ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق جو معاملہ حل طلب ہے اس میں یورینئیم کی افزودگی معطل کرنے کے عمل کا ٹائم فریم بھی شامل ہے۔

امریکا  کے نائب صدر  جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران سے مذاکرات کررہے ہیں، ایران سےجنگ بندی قائم  ہے۔

جے ڈی وینس نے یونیورسٹی آف جارجیا میں تقریب سےخطاب میں اس بات کی تصدیق کی کہ ایرانی مذاکرات کار ڈیل چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے مذاکرات میں جس مقام پر ہیں، اس پر بہتر محسوس کرتا ہوں۔

وینس کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کےدرمیان بہت عدم اعتماد ہے، ایک رات میں یہ دور نہیں ہوسکتا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بہت عدم اعتماد ہے، ایک رات میں یہ دور نہیں ہوسکتا، ایران سے جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

نائب صدر امریکا کا کہنا تھا کہ ایران نارمل بنے تو امریکا اقتصادی طور پر نارمل ملک جیسا برتاؤ کریگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 49 برس میں اس اعلیٰ سطح کے امریکا ایران مذاکرات نہیں ہوئے، ڈیل ایسی ہو ایران نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہ کرے، ریاستی دہشتگردی نہ کرے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ڈیل ایسی ہو کہ ایرانی عوام عالمی معیشت کاحصہ بن سکیں، ٹرمپ چاہتے ہیں ایران سے چھوٹی نہیں جامع ڈیل ہو، ٹرمپ چاہتے ہیں ایران ڈیل امریکا اور دنیا میں ہر ایک کیلئے عظیم ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی جانتے تھے کہ صدر ٹرمپ نے مجھے نیک نیتی سے بھیجا، ٹرمپ چھوٹی ڈیل نہیں چاہتے، اس لیے ابھی تک ایران سے ڈیل نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید  کہا کہ میں نے پاکستان میں کہا کہ بہت پیشرفت ہوئی ہے مگر جامع ڈیل نہیں ہوسکی۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *