امریکی ضد نے جوہری عدم پھیلاؤ مذاکرات کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا: ایران

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے ضرورت سے زیادہ مطالبات نے جوہری عدم پھیلاؤ مذاکرات کو ناکامی اور فری فال کی صورتِ حال تک پہنچا دیا ہے۔

ایران کے اقوامِ متحدہ مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی  ریویو کانفرنس مسلسل تیسری بار امریکا اور اس کے اتحادیوں کی رکاوٹوں کے باعث ناکام ہوئی ہے۔

ایرانی مشن کے مطابق امریکا نے کانفرنس کو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق پیچیدہ مذاکرات کا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی، جس کے باعث اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا۔

ادھر امریکی غیر منافع بخش ادارے آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی کانفرنس جمعے کو کسی حتمی اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں ناکام رہی، جس کی ایک بڑی وجہ ایران کے جوہری معاملے پر اختلافات تھے۔

ایران نے مزید خبردار کیا ہے کہ نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی، جس کا مقصد دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور بالآخر دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک بنانا ہے، وسیع تر عالمی تخفیفِ اسلحہ کوششوں کے بغیر اپنا مستقبل کھو دے گی۔

جنیوا میں روس کے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں میں تعینات نمائندے میخائل اولیانوف نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی مذاکرات سے متعلق اہم بیان دے دیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال پر ایران کا مؤقف حقیقت کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے جبکہ امریکا مذاکرات میں پیش رفت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

جنیوا میں روسی سفیر میخائل اولیانوف، جو عالمی معاملات پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے واضح بیانات کے لیے مشہور ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ایران کی تشخیص اصل صورتِ حال سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔

روسی سفیر نے امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر واشنگٹن کی جانب سے دیے جانے والے پیغامات کم ذمے دارانہ محسوس ہوتے ہیں۔

اولیانوف کے بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ مذاکرات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی، افزودہ یورینیئم اور خطے کی سیکیورٹی صورتِ حال پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

About the author /


Post your comments

Your email address will not be published. Required fields are marked *