امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے کوشش شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا ’’پراجیکٹ فریڈم‘‘ کا آغاز مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق آج صبح سے شروع کرے گا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کررہے ہیں۔ ایران سے بات چیت کا یہ عمل سب کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیرجانبدار ممالک کے جہازوں کو ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کریں گے۔ امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور خاص طور پر ایران کی جانب سے یہ اقدام انسانی ہمدردی کا اظہار ہے، یہ اقدام فریقین کے درمیان خیرسگالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس انسانی ہمدردی کے عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت جواب دیں گے۔ جو ممالک اس تنازع میں ملوث نہیں انہوں نے ہم سے مدد مانگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہرمز میں پھنسے بہت سےجہازوں میں کھانے پینے کے سامان سمیت انسانی ضرورت کی بہت سی چیزوں کی کمی ہوگئی ہے۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹا گون کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
رطانوی میری ٹائم ٹریڈ ایجنسی (یو کے ایم ٹی اے) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خطرے کی سطح تاحال نازک ہے، جس کے پیشِ نظر بحری جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایجنسی کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی سیکیورٹی ایریا قائم کیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے خطرات کے دوران شپنگ سرگرمیاں محفوظ رہ سکیں۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے جہازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت عمان کی سمندری حدود کے راستے کو ترجیح دیں، جو نسبتاً محفوظ سمجھا جا رہا ہے۔
مزید برآں ایجنسی نے زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے بحری ٹریفک کے باعث تمام جہاز عمانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے بر وقت نمٹا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سیکیورٹی کی معمولی خرابی بھی تیل کی ترسیل اور عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔










Post your comments